01:02کہ مہلے والے پڑوسی دنیا والے کیا کیا باتیں بنائیں گے
01:06لیکن نہیں آپ کی امی کو تو عزت پیاری ہی نہیں ہے
01:11ارے میری منع کرنے پر انہوں نے مجھے اتنی باتیں سنائی ہیں کہ اپنے کام سے کام رکھوں
01:17یہ میرا کام نہیں ہے اس گھر کی ذمہ داری میری نہیں ہے
01:22بس بہت ہو گیا نومانت
01:23میں اور ذلت برداشت نہیں کر سکتی
01:26اپنی بہن کو بولیں کہ شرافت سے عدت میں بیٹھی رہ
01:30اور منہ کریں اس احور کو
01:32بند کریں اس کا اس گھر میں آنا چانا
01:41امی آپ یہاں سب خیریت ہو ہے
01:43ہاں تم سے بات کرنے کے لئے آئیں
01:46ویسے تو تم میرے ہاتھ آتے نہیں
01:50آپ مجھے کال کر کے بلا لیتی میں آپ کے کمرے میں آ جاتا ہوں
01:53پہلے کہاں منہ کیا میں نے آپ
01:54نہیں منہ تو نہیں کیا
01:55لیکن نافرمانی ضرور کرتے ہو تم میری
01:59میں سمجھا نہیں
02:00تمہیں کیا لگتا ہے
02:01کہ تمہاری ماں کو کوئی خبر نہیں ہوتی
02:04کہ تم سارا سارا دن گھر سے باہر کیا کرتے ہو
02:07مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں
02:09میں یہ کہنا چاہ رہی ہوں
02:11کہ تم کہاں جا رہے تھے اپنی گاڑی میں گل کے ساتھ صبح
02:14آپ کوئی جھوٹ مت بولنا
02:16صرف گل نہیں تھی خالہ بھی تھی گاڑی میں
02:19ہاں کیوں کس خوشی میں بھائی
02:21گل ہسپیڈل سے ڈسچارج ہوئی تھی گھر چھوڑنے گیا
02:23ہاں تو فحمیدہ باجی کا اپنا بیٹا نہیں ہے کیا
02:26تم کیوں مفت میں ڈرائیور بنے رہے ان لوگوں کے
02:29آپ نے تو خالہ کا بائیک آٹ کر کے ان سے مکمل لا تعلقی اختیار کر رکھی ہے
02:33آپ تو نہیں جانتی ان کے گھر میں کیا چل رہا ہے
02:35نو میں نے گل اور خالہ کا جینا محال کر رکھا ہے
02:38خالہ خالہ خالہ بس کر دو خالہ خالہ سے پہلے ماں آتی ہے
02:43جس کی نہ تمہیں کوئی فکر ہے اور نہ ہی کبھی احساس کی ہے
02:46یہ ایسی بات نہیں ہے میں ان کی ہیلپ کرنے کیا تھا
02:48بس کر دو یہ ہیلپ بہت ہو گئی ہیلپ
02:50بہت ایک ہیلپ میں یہ تماشاں
02:53تنگ آ چکی ہوں
02:55ایسا نہ اب کسی دن جا کے میں
02:57فہمیدہ باجی کا اچھے طریقے سے
02:59میں دماغ درست کر کے آجا ہوں
03:00پھر مجھ سے شکایت نہ کرنا
03:02میری بات تو سنے
03:03مجھے نہیں سننی کوئی بات
03:14یہ کیا تماشا لگایا ہے آپ لوگوں نے
03:16میرے منع کرنے کے باوجود
03:18ایمر باہر باہر اس گھر میں کیوں آتا ہے
03:22یہ کس لحچے میں بات کر رہے ہو تم نومی
03:24تو اور کس لحچے میں بات کروں
03:26اممہ
03:27کوئی اور لحچے آپ کی سمجھ میں کہا آتا ہے
03:29منع کر رہا ہوں آپ کو
03:31سمجھا رہا ہوں آپ کو
03:32کہ اس شخص سے کوئی تعلق
03:34واسطہ نہیں رکھنا
03:35اس سے اس گھر میں نہیں گھسنے دنا
03:36لیکن پھر بھی
03:37پھر بھی وہ روز
03:38موٹھا کے جلا آتا ہے یہاں پہ
03:41جانبوچ کے کرتی ہیں یہ دون
03:43تاکہ ہمیں اچھی طرح جلا سکے
03:47بہاوی آپ کی کیمتی رائے دینے کا بہت شکریہ
03:49میں چاہتی ہوں کہ
03:53اگر بات کر رہی ہوں تو
03:55آپ بیچ میں مد بولیے
03:56میں خود ہی بھائی سے بات کر رہا ہوں کہ
03:58تمہاری اسی زبان کی وجہ سے
04:01تمہیں طلاق ہوئے ہیں
04:03لیکن تم
04:06تمہیں عقل نہیں آئی
04:09بہت اچھا ہوا جو تمہارے پتھر جیسے بھائی سے جان چھوٹ گئی میری بیٹی کی
04:16اللہ تعالی نے ان یقینان اس میں کوئی انہوں کوئی بہتری ہی رکھی ہوگی
04:23دیکھا
04:26آج اپنی زبان سے اقرار کر لیا ان دونوں نے
04:29جانبوچ کے انہوں نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ میرا بھائی سے طلاق دے دے
04:34نومی بھائی بہتر ہوگا کہ بھابی کو آپ چھپ کر آ لیں میں آپ سے بات کر رہی ہوں
04:38سرئیہ میں بات کر رہا ہوں نا مجھے بات کرنے میں
04:45میں بتا رہا ہوں آپ
04:48اب میں روز روز کی یہ ذلت کی شرمندگی برداشت نہیں کروں گا
04:53آپ کیا برداشت کر رہے ہیں
04:56اگر کوئی اس گھر میں برداشت کر رہے تو وہ میں اور میری ماں ہیں
05:03جو آپ لوگوں کی بتمیزیاں، دھمکیاں اور سب کچھ سنتے ہیں
05:07اس کے باوجود بھی آپ سے ایک لفظ نہیں کہیں
05:10ذاتیاں، دھمکیاں، تم نے برداشت کی؟
05:14جھوٹ
05:16گل تومنا کم اکل ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی بتمیز بھی ہے
05:20بڑے بھائی سے بات کیسے کرتے ہیں اس بات کی تمیز نہیں ہے تمہیں
05:25بہن کی زبان نظر آتی ہے تمہیں
05:29اور بیوی کی چلتی ہوئی زبان نظر نہیں آتی
05:32جو ہر وقت فساد پھیلاتی رہتی ہے اس گھر میں
05:38اممہ میں نہ اس روز روز کی چک چک سب تانگ آگیا ہوں
05:42اسے میں نے فیصلہ کیا کہ اسے اس گھر میں تو میں نہیں بیٹھنے تھی
05:49اچھا، تو آپ سیدھا سیدھا کہیے نا بھائی
05:52کہ آپ کو اپنی بہن اور ماں بوجھ لگنے لگے
05:55کوئی بات نہیں، اگر اللہ تعالی نے ماش کی ذمہ داری میرے کاندوں پر ڈالی ہے تو
06:02تو وہی پورا بھی کروائے گا، آپ فکر مت کیجئے
06:07میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے گھر میں نہیں بیٹھوں گی، میں جوب کروں گی، گھر سے باہر نکلوں گی، اپنا اپنی اولاد کا یہاں تک کہ اپنی ماں کا بھی خرچہ پورا کروں گی، نہیں دیکھوں گی میں آپ کے ہاتھ،
06:17مگر آپ میری اور میرے بچے کی فکر مت کیجئے، اپنے بچے کی تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس کی فکر کرنے کے لیے اس کا باپ اور اس کا دھدیالہ بھی ہیں، اٹھا لیں گے اس کا خرچہ،
06:32اور کیا مطلب ہے اس بات کا؟ مطلب صاف ہے گل، بچہ جن کا ہے، انہیں ہم بچہ لوٹا رہے ہیں کیونکہ صاف بات ہے، میں کسی غیر کے بچے کی ذمہ دارین اٹھاؤں گا، خبردار، خبردار جو مجھ سے میری اولاد کو کسی نے جدا بھی کیا تو،
06:56آپ لوگ کیا سمجھ سیں؟ کہ اتنا آسان ہے کہ آپ میرا بچے اٹھا کے ان لوگوں کو دے دیں گے؟
07:04سوچیے گا بھی ماں
07:06اگر آپ کو مجھ سے میری اولاد چاہیے نا، تو آپ لوگوں کو میری لاش پیسے گزرنا پڑے گا، سمجھے آپ؟
07:16اور میں بھی دیکھتیوں کہ مجھ سے میری اولاد تو کون چھیلتا ہے
07:26اپنی مردانگی اور طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اتنا ہی ظلم کرو نومی جتنا سہ سکو خود
Be the first to comment