Skip to playerSkip to main content
#BenazirBhutto #27DecBlackDay #GarhiKhudaBakhsh

Category

🗞
News
Transcript
00:00A.K.T.O.B.R.
00:30K.T.O.B.R.
01:00K.T.O.B.R.
01:29K.T.O.B.R.
01:59K.T.O.B.R.
02:01K.T.O.B.R.
02:03K.T.O.B.R.
02:05K.T.O.B.R.
02:07K.T.O.B.R.
02:09K.T.O.B.R.
02:11K.T.O.B.R.
02:13K.T.O.B.R.
02:15K.T.O.B.R.
02:17K.T.O.B.R.
02:19K.T.O.B.R.
02:21K.T.O.B.R.
02:23K.T.O.B.R.
02:25K.T.O.B.R.
02:27K.T.O.B.R.
02:29K.T.O.B.R.
02:31K.T.O.B.R.
02:33K.T.O.B.R.
02:35K.T.O.B.R.
02:37K.T.O.B.R.
02:39K.T.O.B.R.
02:41K.T.O.B.R.
02:46then had the ghost
02:48because his death had so much time in his life
02:54that now his voice never had a smoke to get caught.
03:00The two-tolls- Taste of the Lord
03:02that the Messiah and the Messiah of the Lord
03:05and the Messiah's touch of the Lord
03:06one-just kind.
03:08No matter who the Lord
03:09No matter who the Lord
03:13Yes, yes, yes
03:15After all, the people of the government were
03:21running away from the government.
03:23This was a historical view.
03:38A mother, a daughter, a baby
03:41I feel very very emotional coming back to my country I dreamt of this day for so many
04:02months and years I counted the hours I counted the minutes and the seconds just to see this
04:09land to see the grass to see the sky I feel so emotionally overwhelmed.
04:14The time was such a time that the wall of the wall is ticking and the feet of the death of
04:22the death of every small town was a nightmare and it was going to be hanging out with this
04:30سال 2007
04:34کا آغاز ہوا
04:35میریٹ ہوتل اسلام آباد
04:38میں خودکش حملے سے
04:40دارالحکومت کے بعد
04:42پشاور میں بھی خودکش
04:44حملہ کیا گیا
04:45پولیس کے بارہ جوان بشمول پولیس
04:48چیف شہید کر دئیے گئے
04:50پھر بارہ
04:52مئی کو اگلا تحریک
04:54بلوے کی نظر کرنے کی
04:56کوشش کی گئی
04:57خون بہا گاڑیاں چلی
04:59امناک تباہ کی گئی
05:01دارالحکومت میں
05:04پلنے والے دیشت کرد
05:05کھل لم کھلا کاروائیاں کر رہے تھے
05:08اور پھر لار مسجد
05:15آپریشن بھی شروع کر دیا گیا
05:29یہ اس کے بعد ہم نہیں چھوڑیں گے
05:32ہم فیدائی ہم نے کریں گے
05:33تو کچھ دن بعد
05:35میران شاہ میں چوبیس اہلکار
05:38خودکش حملے میں شہید ہو گئے
05:41پھر وقت پھنٹی میں دو بم دھماکے
05:44کئی جانے چلی گئیں
05:46ایسے میں
05:48بھٹو کی بیٹھی
05:50واپس آ گئی تھی
05:51یہ تاریخی ریلی
06:01ایک اور تاریخی ریلی کی
06:03یاد تازہ کر رہی تھی
06:05وہ بھی ایک آمیر کا دور تھا
06:21جمہور
06:22سڑکوں پر جمہوریت کو خوش آمدید کہہ رہا تھا
06:26ایسا لگتا تھا
06:28کہ جیسے پاکستان
06:30سمٹ کر لاہور میں سما گیا ہو
06:32دیکھیں بیوی کا جو
06:34نائنٹین ایٹی سکس
06:36دس اپریل کا جو ریسپشن تھا
06:37لاہور کے اندر میں نے سمجھتا کہ
06:39ایسا ریسپشن پاکستان کی تاریخ نے کبھی دیکھا ہوگا
06:43یہ چاپی ہوں
06:45کہ یہ مشال
06:47شعبی نو جوانوں کے ہاتھ میں
06:49مضبقل ہوا ہے
06:51یہ مشال
06:52شعبی نو جوانوں کے ہاتھ میں
06:55سیاہ کا پھیلایا ہوا اندھیرہ
06:58ایک بے نظیر
07:01روشنی کی لہروں کی لپیٹ میں تھا
07:04جمہوریت بہترین انتخام تھا
07:08لوگ چیخ چیخ کر بتا رہے تھے
07:11تختہ دار پر کس کی موت ہوئی تھی
07:19اور کون آج بھی زندہ ہے
07:22زندہ ہے مٹو زندہ ہے
07:24آج بھی مٹو زندہ ہے
07:26کل بھی مٹو زندہ ہے
07:29تب بھی آمیر کا تختہ الٹا تھا
07:32اور اب ایک بار پھر
07:34جمہور کی فتح ہونے والی تھی
07:37تب بھی فتح سے پہلے ہی
07:40جشن منا لیا گیا تھا
07:42ابھی فتح سے پہلے ہی
07:49فتح کا اعلان کیا جا رہا تھا
07:52زندہ ہے بھٹو زندہ ہے
08:01کراچی کی سڑکیں ان ناروں سے گونج رہی تھی
08:08مہترمہ ٹرک کی جھت پر کھڑی
08:11ہاتھ ہلا ہلا کر ناروں کا جواب دی رہی تھی
08:15جوش ورتا جا رہا تھا
08:23عوام کا سمندر تھاٹے مارتا ہوا
08:32کارساز روٹ سے گزر رہا تھا
08:35جوان، اونڈے، مرد، عورت، بچی
08:39سب ہی تو تھے
08:41اور سب ہی جانتے تھے
08:43کہ یہ خوشیاں دشمن سے پرداشت نہیں ہوگی
08:47وہ جو خدشے ظاہر کیے جا رہے تھے
08:49وہ جو خطرے کہے جا رہے تھے
08:51کہ مہترمہ آپ پاکستان جائیں گی آپ کی ذات کو خطرہ ہوگا
08:53کارکنوں کو میں بھی میڈیا میں بھی سب باتیں آ رہی تھیں
08:57اس کے بعد بھی کارکنوں کے گردے تو اسی طرح رہے
08:59وہ ان کے گرد ایک شیلڈ کی طرح رہے
09:01اور چند لمحے بعد
09:10ایک بار پھر بھٹو کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی
09:21جانساروں کی گردی ہوتی رہی
09:26شہادتوں کی شہادتیں آتی رہیں
09:29اور دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا
09:32کہ جانکنی کے عالم میں لوگ پوچھ رہے تھے
09:35بیوی کیسی ہیں
09:37بیوی کو تو کچھ نہیں ہوا
09:39جانساروں کی طرح رہے
10:09اگلی صبح کا سورج اسی آب اتاب سے اُبھرا
10:2118 اور 19 اکتوبر کی درمیانی شب
10:25گزرنے والی قیامت سغرہ سے
10:27نہ تو بھٹو کے جیالوں کے عزم کو آنچ آئی تھی
10:33اور نہ ہی بے نسیر بھٹو کے قدم
10:3718 اکتوبر کے واقعے کے بعد
10:42very next morning چار بجے میں گھر پہنچی ہوں
10:45صبح سات بجے مجھے دوبارہ فون آیا
10:48کہتی ہیں چلو ہم لیاری چلے
10:50میں ان کا بی بی کوئی سیکیورٹی نہیں ہے
10:52کوئی بندہ یہاں نہیں ہے
10:54سب لوگ سیکیورٹی والے ساری رات بہا بیٹھے رہے
10:57وہ چلے گئے تھے صبح
10:57کہتی ہیں چھوڑ دو سیکیورٹی والے کو لیٹس کو
11:00اور جو بس اس کی طرف ہی دیکھتے ہیں
11:15وہ اپنے ساتھیوں میں حوصلہ تقسیم کرتی رہی
11:19حوصلہ جو سے ورسے میں ملا تھا
11:22وہ شہید زنفقار بھٹو کی بیٹی تھی
11:26وہ بھٹو جو کہتا تھا
11:29جو آپ کی تکلیف ہے وہ میری ہے
11:31کیونکہ میں نے کہا کہ میں دو ہوں
11:34میں ایک نہیں ہوں
11:35ایک اس جسم میں
11:37اس خون میں
11:38اس بھٹ میں کھڑا ہوں
11:40دوسرا آپ کے روح میں
11:41آپ کے جسم میں
11:43آپ کے بھٹ میں میں کھڑا
11:49وہ انیس سو انہتر کے دن تھے
11:51سولہ پر اس کی بے نظیر
11:54ایک نئی دنیا سے روشناس ہو رہی تھی
11:57ایک ایسی دنیا
11:58جہاں جمہور
12:00کمزور نہیں تھا
12:01ملتا ہوں
12:25ملتا ہوں
12:26ملتا ہوں
12:28But he was the time he was the leader.
12:44He was the leader of the war.
12:481972 was the one who returned.
12:51He was the father and the father of Zulfikar Ali Bhutto with Bhairat.
12:56ڈیپلومیٹک تعلقات استوبار کیا
13:26یہ ایک نازک مور تھا کہ جب ملک دو لخت ہو چکا تھا
13:32اور پاکستانی فوج کے پچانوے ہزار سپاہی بھارت میں جنگی قیدی بنا لیے گئے تھے
13:40دستخط ہوئے شرائط تیپ آ گئیں اور قیدی رہا کر دیے گئے
13:46آورڈ سے ڈگری مکمل کرنے کے بعد محترمہ نے آکسپورڈ کا رخ کیا
13:52یہ سفر سیاست میں دوسرا قدم ثابت ہوا
13:55انیس سو چھیکٹر میں جب زلفقار علی بھٹو پاکستان کے وزیر آزم تھے
14:01محترمہ آکسپورڈ یونین کی صدر تھی
14:05ہاورڈ کی طرح آکسپورڈ کے یہ دن محترمہ کے لیے آسان نہیں تھے
14:11کیونکہ بہت کچھ بہت دیزی سے بدلتا جا رہا تھا
14:15بھارت کے نیوکلئر تجربے نے پاکستانی دفعہ پر سوال کھڑا کر دیا تھا
14:20اور زلفقار علی بھٹو نے نیوکلئر بم بنانے کا اعلان کر دیا تھا
14:27نیوکلئر ٹیکنالوجی کا حصول ہمارے دفاع کے لیے ناگزیر تھا
14:32مگر اس دفاعی کاوش سے اپنے آپ کو زمینی خدا کرداننے والا امریکہ ناراض ہو گیا تھا
14:40وہاں امریکہ اور یہاں دائیں بازو کی قوتیں مل کر دائرہ تن کر رہی تھی
14:48زلفقار علی بھٹو کی شورت کو نقصان پہنچایا جا رہا تھا
15:14جس کی بازگشت مہترمہ کو آکسفورڈ میں سنائی دیتی رہی
15:19وہاں افواگ گردش کر رہی تھی
15:21کہ بھٹو کی بیٹی سیاست میں نہیں آ پائے گی
15:25کیونکہ بظاہر زلفقار علی بھٹو کی پاپلیریٹی کا گراف گرتا جا رہا تھا
15:32دائیں بازو کی طاقتیں بڑی تیزی سے ابر رہی تھی
15:35مگر پھر بھی انیس سو ستتر کے عام انتخابات میں
15:40فتح پیپلز پارٹی ہی کے حصے میں آئی
15:44حالات سنبھل نہیں رہے تھے
15:47کیونکہ حالات کا بگڑنا مارشل لاؤ کے لیے ناگزیر ہوتا ہے
15:52زلفقار علی بھٹو کی حکومت ختم ہونے سے لے کر
16:13ان کی شہادت تک کے دو برس میں
16:16وہ اپنی والدہ کے ہمراہ مارشل لاؤ کے خلاف مہم چلاتی رہی
16:22نصرت بھٹو اور پینظیر بھٹو کی کوششیں جاری رہی
16:33اور انہیں متعدد بار جیل جانا پڑا
16:36جس وقت زلفقار علی بھٹو کے جسم کو تختہ دار پر کھینچا گیا
16:42وہ دو برس سے جیل میں قید تھی
16:45اور یہ قید انیس سو چوراسی تک
16:49الگ الگ انداز سے جاری رہی
16:51جیلوں کی سختیاں سے ہی سب کچھ سینے کے باوجود
16:55وہ کھڑی رہی انہوں نے کسی جگہ پہ کمپرومائز نہیں کیا
16:58انیس سو اٹھاسی کی سیاست میں
17:00کہ جب تک باپ ہی نہیں
17:02چھوٹا بھائی شانواز بھٹو بھی لکمہ بن چکا تھا
17:07اور دو ہزار سات کی سیاست میں
17:26کہ جب تک میر مرتضی بھٹو کو بھی
17:29بھٹو کا پیٹا ہونے کی سزا دی جا چکی تھی
17:32ان کے شوہر آصف علی زرداری کو
17:48جرم ثابت نہ ہونے کے باوجود
17:50کیارہ سال تک بابند سلاسل رکھا جا چکا تھا
17:55موسیقی
18:25کی وہ شادی کسی سیاسی جلسے سے کم نہیں تھی
18:30وہاں بھی اس دور میں بھی
18:33یہ لوگ ایسے ہی ناچ رہے تھے
18:35اتنے ہی خوش اور پرچوش تھے
18:38یہ محبت یہ عقیدت جو محترمہ بے نظیر بھٹو کو حاصل تھی
18:44یقیناً اس کے لیچے کئی صدیوں کی محنت درکار ہے
18:49آپ مت سوچئے کہ ابھی بے نظیر کی شادی ہو گئی ہے
18:59آپ کی بہن آپ کو چھوڑے گی
19:02آپ کی بہن آپ کو کبھی بھی چھوڑ نہیں سکتی ہے
19:07آپ ہی کے ساتھ رہے گی
19:0918 دسمبر 1987 سے لے کر
19:1516 نومبر 1988 تک
19:18یعنی شادی کے پہلے بارہ مہینوں میں
19:21یہ دونوں میاں بھی دی
19:23نجیدعوتوں اور غیر رسمی محافلوں سے زیادہ
19:27الیکشنز کیمپین کی ملاقاتوں
19:30پارٹی میٹنگز اور سیاسی جلسوں میں مصروف رہے
19:34اور پھر وہ دن آ گیا
19:3719 سال کی عمر میں شروع ہونے والے
19:50سیاسی سفر کی پہلی منزل آ گئی تھی
19:53ہارورڈ اور اکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم
19:57اور عوامی لیڈر کی سیاسی تربیت کے ساتھ ساتھ
20:0235 سال کی عمر میں
20:04وزیر آزم بننے والی کم عمر ترین
20:08وزیر آزم نے
20:09غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی زندگی کو
20:13دیکھا ہی نہیں تھا
20:15چھیلا بھی تھا
20:16بینظیر بھٹو آگے بڑھنا چاہتی تھیں
20:34مگر الزامات کی سیاست شروع کی گئی
20:37کرپشن اور اقربہ پروی کے الزامات
20:41اور ان کا پرچار شروع ہوا
20:44خیبر سے لے کے کراچی تک
20:46کوئٹا سے لے کے
20:48کوئٹا سے لے کے ہم خیبر تک پشاور تک گئے ہیں
20:52میرے بھائیوں پوری قوم نے بے نظیر کے خلاف فیصلہ دے دیا ہے
20:56ملک میں قائم میم صدارتی نظام کو
21:00پارلیمنٹری نظام میں بدلنے کی کوشش کو
21:02مطلق الانانیت کا نام دیا گیا
21:05صدر اور وزیر آزم کے درمیان
21:08جاری اختیارات کی سرد چنگ
21:11انیس سو نوے کے آخر تک چاری رہی
21:15اور ثابت صدر خلا مصاح خان نے
21:18درب کا پتہ پھینک دیا
21:21زیادور کی ایجاد کردہ آٹھویں درمیم نے
21:25عوام کے چنے ہوئے وزیر آزم کو
21:28دست بردار کر دیا
21:30سابعہ کم عمر ترین وزیر آزم
21:34اب اپوزیشن لیڈر تھی
21:36اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار
21:38دائم بازو کی جماعت اقتدار میں تھی
21:42اور حضب اختراف کی قیادت
21:45ایک خاتون کر رہی تھی
21:47یہ عجیب جنگ تھی
21:49بھٹو کی بیٹی
21:50زیاؤ الحق کے دنیا سے جانے کے بعد بھی
21:54اسی سے لڑ رہی تھی
21:56کیونکہ یہ دائم بازو
21:58زیاؤ الحق کا ہی دائم ہاتھ تھا
22:02یہ لوگ شہید زیاؤ الحق کا مقابلہ کریں گے
22:06یہ لوگ یہ پاکستان کے گلتاں
22:09یہ حکومت بھی نہیں چل سکی
22:10نباز شریف کو مصطعفی ہونا پڑا
22:14اور وہ اکیلے نہیں ڈوبے
22:16کچھ عرصے بعد
22:18صدر کو بھی عوضہ چھوڑنا پڑا
22:21اور انیس سو تیرانوے سے شروع ہونے والا
22:25محترمہ کا دوسرا دور حکومت میں بھی
22:28سازشیں چاری رہیں
22:30اور قوم پرستی کو
22:32ہوا دی گئیں
22:33محترمہ اپنے والد کے نقش قدر پر چل رہی تھی
22:48وہ ایک بردبار لیڈر
22:50مہاجر کا نشان
22:51پنجابی کا نشان
22:53بلوچ کا نشان
22:55کشمیری کا نشان
22:57بختون کا نشان
22:59اور معاملہ فہم سیاستدان تھیں
23:01ان کی سیاسی تحریک کی بنیاد
23:04انتقام نہیں
23:06نظام تھا
23:07وہ نظام
23:09جس کے وجود کے لیے
23:10ان کے والد نے اس ملک کو آئین دیا تھا
23:14اس لیے
23:15میں اپنا آئین دیتا ہوں
23:18ان کے ہر جرت مندانہ قدم کے پیچھے
23:21معاملہ فہمی اور دور اندیشی تھی
23:24انہوں نے دو بیٹوں کے ہوتے ہوئے بھی
23:43اپنی بیٹی کو اپنا جانشین بنایا
23:47اور محترمہ نے اپنے عمل سے ثابت کیا
24:12کہ ان کے والد کا فیصلہ خلق نہیں تھا
24:15وقتی اور ظاہری فوائد کے لیے نہیں
24:23ملک کے وسیطر مفاد کے لیے لڑی
24:26اور ان کے اور میر مرتزہ بھٹو کے درمیان
24:30اختلافات کی وجہ
24:32یہی انداز سیاست تھا
24:35اور تازہ تازہ زخم کھانے والے زخمی شیر
24:40میاں نواز شریف کے جلسوں
24:42تقریروں اور بیانات کا محور
24:45دوبارہ کرسی کا حصول تھا
24:48جس کے لیے وہ سیاست کی بسہت پر
24:51الزامات کے موروں سے چالیں چل رہے تھے
24:55الزامات جو مہترمہ اور ان کے شوہر
25:04آصف علی زرداری پر لگائے جا رہے تھے
25:07وہ کبھی ثابت نہیں ہوئے
25:09عوام بھٹو کی بیٹی کے ساتھ تھے
25:21الزامات کی سیاست دم توڑ جاتی
25:24سچائی اپنا مقدمہ جیت جاتی
25:34اگر میر مرتوزہ بھٹو
25:52موت سے نہ ہار جاتے
25:55ہم لوگ بھاگے ہسپیٹل جائے اور ہسپیٹل جب گاڑی رکھی
25:58تو پورا یعنی ٹوٹل سناٹا تھا
26:01یعنی سیکیورٹی ہر طرف سیکیورٹی
26:02اور وہ ننگے پیر وہ بھاگتی اوپر گئی اور جیسے ہی آپریشن
26:08تھییٹر کے پاس ہم پہنچے
26:09اور پھر موت کی خبر
26:13یہ تیسرا بھٹو شہید کر دیا گیا تھا
26:17یہ محترمہ کے اکلوتے رہ جانے والے بھائی کا قتل تھا
26:28وہ غم سے نڈھال تھی
26:30میر مرتوزہ بھٹو اس دنیا سے رخصت تو ہوا
26:35لیکن وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہے
26:40اور ہمیشہ زندہ رہے گا
26:43اس لیے شہید کبھی نہیں مرتے ہیں
26:46بھٹو کے عاشقوں سے بھٹو کے بیٹے کی موت پرداشت رہی ہوئی
26:52ایسے میں جذبات کو ہوا دینے کے لیے
26:55ہوا میں شہ سرخیاں چھوڑ دی گئیں
26:58جن میں بہن کو بھائی کا قاتل قرار دیا جا رہا تھا
27:05پرپیگنڈا زور پکڑتا گیا
27:08ان الزامات نے محترمہ کی حکومت تو ختم کر دی
27:13مگر جو اقتدار دلوں پر تھا وہ قائم تھا
27:27مہترمہ کی زندگی کا یہ دوسرا مشکل ترین دور تھا
27:47شریک حیات جیل کی سراخوں کے پیچھے تھا
27:50اور وہ ننھے بلاول بختاور اور آسوا کے ساتھ
27:56کبھی جیل کی انتظار گاہ میں
27:59کبھی ملاقات گاہ میں
28:01اور کبھی کوٹ میں دکھائی دے جانے لگیں
28:04پہلے بیٹی بن کر باپ کے لیے لڑ رہی تھی
28:08پھر بیوی بن کر اپنے شوہر کے لیے لڑنا پڑا
28:12ماں بن کر اپنے بچوں کے لیے بھی لڑتی رہی
28:16اور اس ساری لڑائی کے دھوران
28:19جمہوریت اور جمہور کا عرض بھی اتارتی رہی
28:23مہترمہ ہاؤس ریسٹ رہی
28:26جیل کا حبس جیلہ جلا وطنی کاٹی
28:30مگر یہ کردار سیاسی منظر نامے سے کبھی دور نہیں گیا
28:35اللہ نے ان کو موقع دیا
28:37جو نو سال ایکزائل میں انہوں نے گزارے
28:39کہ اپنے بچوں کی انہوں نے کچھ تربیت کی ہے
28:42آسیفی؟
28:43مہم
28:44آپ جانتے ہیں؟
28:45مہم
28:46کہانی چلتی رہی
28:52دنیا کی سیاست خوف اور خدشات کے سائے سائے چلنے لگی
28:58دوست اور دشمن پاکستان کو شک کی نکاح سے دیکھنے لگے
29:03اور جمہوریت مسلحت کی نظر ہونے لگی
29:07تب بھی لیڈر عوام کی بیٹی نے عامریت پسندی کا کوئی اظہار نہیں کیا
29:22وہ جانتی تھی کہ یہ بیچ عامریت نے ہی بویا تھا
29:27اس کے پیش نظر ملک کے وسیطر مفاد میں مہترمہ نے اپنے سیاسی حریف میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ملاقاتے کی اور میساق جمہوریت کا معاہدہ ہوا
29:45اور پھر نہ رکنے والے پروپیگنڈے کے دوران
29:57دیارہ سال کی جیل کسٹڈی کے بعد آصف علی زرداری کو باعزت رہا کر دیا گیا
30:04سفر نہ رکھنے والا تھا
30:07ایسا لگتا تھا کہ جیسے منزل ابھی اور آگے کی جانب سفر کر رہی ہو
30:13اور وہ سب جانتے ہوئے بھی
30:15اور آتے ہی
30:45मौत का पहला सिलाम ले लिया
30:4918 कुबर के सानहे के बाद
31:02सबही की नजरे मौतरमा की तरफ उटने लगी थी
31:05और ऐसे में वो दुबई वापस चली गई
31:09It was not a miracle. It was another event. It was back to them.
31:15I traveled from Karachi to Dubai. I wanted to console my children.
31:21I couldn't come immediately after the bomb blasts because we had to tend to the wounded
31:25and also condol with the families and I had to pray at my father's grave.
31:29Lyakat Baag یہ وہی مقام ہے جہاں ملک کے پہلے وزیراعظم نواب
31:37لیاقت علی خان کو حب الوطنی کی سزا دی گئی تھی.
31:42ہزاروں لوگوں کے بیچ گولی چلانے والا موجود تھا
31:46اور توک کامیاب بھی ہو گیا لیاقت علی خان شہید ہو گئے
31:53وہ اتنا ترقی آفتہ دور نہیں تھا
31:57There were no use of confidence to create confidence in the future.
32:09But in 2007, many things changed.
32:14Why could not have confidence in the future?
32:17This is why now nothing could change.
32:20There were so many people who had so many people
32:23that they had so far away.
32:26Go my brothers, this government is not possible. Your country, my country is in danger. And I will save you this country.
32:38When the darkness is saying that I am in danger, see you in Beloucistan, see you in Shemali, see you in our churches.
32:54This is my cause, this is why I am in this history.
33:04I will save you.
33:06My brother, my brother, my brother, my brother.
33:11My brother, my brother, my brother.
33:14Every year, my brother, my brother came from the village.
33:24He had a voice.
33:25He had a voice.
33:27He was a blind and blind.
33:29He was also blind and blind and
33:32he helped to take the soul of his own loved ones.
33:35He had a reply for a few questions.
33:38Then he asked me,
33:40how did he get the girl?
33:43The girl is telling me.
33:46He asked me,
33:49how did he get the girl?
33:52So let it be very clear
34:13That there was no bullet that hit
34:15Mohtarmah Benazir Bhutto
34:17There was no splinter that hit
34:19Mohtarmah Benazir Bhutto
34:21So let it be
34:22Chupaya bhe jathe rhe
34:23Or deryafht bhe kye jathe rhe
34:26Aagle kai dinnung tuk
34:29Mieđiya chillata raha
34:31Abaam matam kerti rhe
34:33Myrhe baayah
34:37Suna zara
34:40Karna ni
34:42Vatan ka ra
34:44Mohtarmah per hamlye ki footage
34:47TV per bar bar
34:49Shahadat chilti rhei
34:51Bar bar
34:51Bilavel
34:52Aasfah
34:53And Bukhtawar
34:54Ke khano me
34:55Apeni maa ki shahadat ka
34:57Ailan
34:58Kunchta raha
34:59Mohtarmah shahid karna
35:01Demokrasi is the greatest revenge
35:04Demokrasi is the greatest revenge
35:06The philosophy of Shaheed Mohtarmah Benazir Bhutto
35:10In which we believe
35:11Which says democracy is the best revenge
35:15The philosophy of Shaheed Mohtarmah Benazir Bhutto
35:18In which we believe
35:21Which says democracy is the best revenge
35:24The philosophy of Shaheed Mohtarmah Benazir Bhutto
35:31The philosophy of Shaheed Mohtarmah Benazir Bhutto
35:35In which we believe
35:36Which says democracy is the best revenge
35:40The philosophy of Shaheed Mohtarmah Benazir Bhutto
35:50The philosophy of Shaheed Mohtarmah Benazir Bhutto
Be the first to comment
Add your comment

Recommended