Skip to playerSkip to main content
  • 5 days ago
PTV Classic Drama Zara Si Aurat — a timeless 1992 Urdu Long Play featuring legendary performances by Bushra Ansari, Behroze Sabzwari, and Shafi Muhammad.
Directed by Sultana Siddiqui and written by Noor ul Huda Shah, this PTV Tele‑Theater classic tells the powerful story of Qudsia, a wife struggling between societal expectations and her own search for happiness. Experience one of Pakistan Television’s most memorable dramas from the golden era of Long Plays, full of emotional depth, social reflection, and unforgettable performances.

📌 Cast: Bushra Ansari, Behroze Sabzwari, Shafi Muhammad
📌 Genre: Urdu Drama / Social Melodrama
📌 Network: PTV (Pakistan Television)
📌 Year: 1992

Category

📺
TV
Transcript
00:00مصرم
00:02مصرم ملے ہیں
00:11کیا چیز
00:13مصرم باتروم کا لوگ
00:25ایک مہینے سے خراب ہے
00:27کچن کا نلکہ بہر ہے
00:29میری اپنی اینک کے لئے میں آپ سے کئی بار کے چھو
00:31چائے
00:35ویسے اس گھر کے چھوٹے موٹے کام تو میں بھی کر سکتا ہوں
00:41میں بھی اس گھر میں مفت کی روٹیاں ہی تو توڑا ہوں
00:44اور مقصد ہے کہ یہ اوپر کے کام جھاڑو پوچھا تو میں کر سکتا ہوں
00:50اس گھر کے ایسی بہت سے چیزیں خراب ہیں جب تم چید نہیں کر سکتے
00:55جی نہیں میں اس گھر کی بہت سے چیزیں ٹھیک کر سکتا ہوں
00:59بلکہ کچھ چیزیں تو میں ابھی ابھی اسی وقت بھی ٹھیک کر سکتا ہوں
01:03دیکھیں
01:05موسیقی
01:28بھائی مدنکر
01:29اب تو بابا سے بھی شاہ نکلے
01:31اور کیا
01:33کبھی گلاس توڑ دیا
01:37کبھی دل توڑ دیا
01:38جس کا دل
01:42کم بولا کرو
01:46تم بہت بولتے ہو
01:48میاں کا نام لیا
01:50تو آپ کی تو ممتائی امرڈ پڑی
01:52آپ ہمیں تو لیفٹ نہیں کراتی
01:54چندہ توری چاندنی میں
01:57جی آج لازائے
01:59کبھی دل توڑ دیا
02:04جی آج لازائے جی
02:06موسیقی
02:08موسیقی
02:09موسیقی
02:11موسیقی
02:13موسیقی
02:15موسیقی
02:17موسیقی
02:19موسیقی
02:21موسیقی
02:23موسیقی
02:25موسیقی
02:27موسیقی
02:29موسیقی
02:31موسیقی
02:33موسیقی
02:35موسیقی
02:37موسیقی
02:39موسیقی
02:41موسیقی
02:43موسیقی
02:45موسیقی
02:47موسیقی
02:49موسیقی
02:51موسیقی
03:21موسیقی
03:51موسیقی
04:21موسیقی
04:31موسیقی
04:33موسیقی
04:43پلیز تھوڑی در کے لئے میری سہیلی بن سکتے ہیں
05:13آخر ایسے کیا بات ہے جو میں شور کی حصیت سے نہیں سن سکتا
05:18مجھے سے لگتے جیسے ہم دونوں ہم دونوں دوسرے کو کہیں رکھ کر بھول گئے
05:31بچھڑ گئے جیسے
05:32دیکھ رہا ہم پسرے کے لئے دنوں سے تم بڑی عجیب چھ باتیں کرنے لگتے
05:42پچھڑ گئے دنوں سے میں آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں
05:50میں یہاں اسی گھر میں رہتا ہوں
05:58بس ساتھ ساتھ رہی تو رہے ہم
06:05اور
06:06ساتھ ہی تو رہے رہے ہوں
06:11یہ کیا بچوں کی سی حرکت نے شروع کر دیا ہے تمہیں
06:24گھر آپ کے لئے آپ کے لئے چوڑ diskریہ
06:32چ intellara
06:34آپ کے لئے پ소ہ
06:35چلئے zijn
06:36میں چلئے کتيھ
06:37چلئے 들어가ے
06:38وہ
06:38اپنے
06:39ساتھ
06:39چل 않아
06:40چلئے
06:41چeline
06:41چلئے
06:42کتے
06:43چلئے
06:44چلئے
06:45چلئے
06:46چلے
06:46چلئے
06:47Housing
06:48تو
06:49چلئے
06:49تو
06:50چلئے
06:51ız
06:54مر جاتا آپ کی تو جان چھوٹتی نا
06:57تم مر جاتے لیکن جان چھوٹا
06:59تمہیں سرمیاتے اس بات کرتے ہوئے
07:02تم مر جاتے تو جانتے ہو کیا ہوتا
07:05تم نہیں جانتے تم مر جاتے تو کیا ہوتا
07:10تم نہیں جانتے
07:12کیسی محبت ہے تمہاری
07:14کیسی محبت ہے یہ
07:16اس سے درچہ تم چلے جو یہاں سے
07:20رب گھوٹ جائے
07:24تعلید آنے
07:28اپنے آنے دو کیا ہوا
07:30اپنے آنے دو کیا ہوا
07:37اپنے دو کیا ہوا
07:54چھپوڑا کچھیں
07:56ایسا نہیں روتیں
08:00دیکھ لو تمہیں صبح آفرس پہ جانا ہے
08:08مات رو پلیز
08:12ایسا رو تو بھی انسان اچھا نہیں رکھتا
08:18ایسا اچھا نہیں رکھتا
08:22مات تسلیہ دے مجھے اچ نبیوں کی طرح
08:26نہیں چاہیے مجھے اتنی رسمی الفاظ
08:29چھوٹ بول رہے ہیں
08:37یہ لوگ کو دکھاو
08:41لو ریلیکس کر جاؤ گی
08:43لو
08:45ہم سے یہ ٹرینکولائزری اچھا ہے
09:02سکون کے نیند تو دے جاتا ہے
09:05تھوڑی دیر کے لیے اسے ہی
09:09ہمیں سکون ہی چاہیے ہوتا ہے
09:12چاہے وہ کیسے بھی ملے
09:14رو پلیز
09:28موسیقی
09:58موسیقی
10:28موسیقی
10:40موسیقی
10:44موسیقی
10:48موسیقی
11:00موسیقی
11:02موسیقی
11:04موسیقی
11:06موسیقی
11:08موسیقی
11:10موسیقی
11:12موسیقی
11:14موسیقی
11:16موسیقی
11:18موسیقی
11:20موسیقی
11:22موسیقی
11:24موسیقی
11:28موسیقی
11:30موسیقی
11:32موسیقی
11:34موسیقی
11:38موسیقی
11:40موسیقی
11:42موسیقی
11:44موسیقی
11:46موسیقی
11:48محبت کئی طرح ہوتی ہے
11:50موسیقی
11:52موسیقی
11:54موسیقی
11:56موسیقی
11:58موسیقی
12:00انتہائی گونہگار بندے کی بھی قبول کر لیتا ہے
12:03اور آپ
12:04ایک انسان کی ذرا سی محبت سے گفر آگئیں
12:07جس کے پیچھے کوئی تمنا کوئی خواہش نہیں
12:10شادش و دورت بس اتنی محبت قبول کر سکتی ہے
12:16جب میں اس کے ایک گھر میں سما سکے
12:19چاہے اس کا کوئی روپ ہو
12:22کوئی رشتہ ہو
12:23کوئی مطلب ہو
12:24اس طرح کیا دیکھ رہے ہو
12:31کچھ نہیں بس
12:33آپ جیتی ہیں اور
12:35میں ہر آپ
12:37اسی لئے تو جا رہا ہوں
12:39بڑی بے مروبت ہیں آپ
12:44رکھنے کے لئے بھی نہیں کہیں گی
12:47اچھا میں
12:52ناشتہ بنا لو
12:54آج آفیس جانا پڑ گیا چھٹی کی تین بھی
12:56تم بلکہ آکے ناشتہ کر لو پہلے پھر سامان پہک کر لینا
12:59آو شابش جلدی سے ہوں
13:22آسد
13:28اچھا
13:30ڈا
13:34ڈا
13:36ڈا
13:38ڈا
13:39ڈا
13:40کچھ کہنا چاہ رہاں
13:59چاہی بنا دوں آپ کے لئے
14:14نہیں
14:17جی نہیں جانا
14:21ناشتہ بھی نہیں کرے آپ
14:28مجھے بھی نہیں کرے
14:34مجھے بھی نہیں کرے
14:36آپ آفیس جا رہے ہیں
14:38جی بیٹا
14:40کیوں
14:42بس بیٹا کچھ کام ہے
14:44تو آپ مجھے نجمہ آنٹا کی خواہد چھوڑ سکتی ہے
14:46آج ہنہ کی گریہ کی شادی ہے
14:50ٹھیک ہے آپ تیار ہو جاؤ
14:52میں ایسے ہی جاؤں گی
14:54میں بار برم بنا کر آتا
14:56مجھے ہم
15:02ہماری
15:04ٹھیک ہے
15:06چائے ملے
15:08ہاں
15:10ہاں
15:12اگر وہاں سیٹ مل گئی تو ابھی پھر کر کے اوڑ جاؤں گا
15:30نہیں تو پھر تین بجے والی ٹرین سے
15:32میرا دوست آئے گا گاڑی لینے یہ گاڑی کی چابی ہے
15:40کیونکہ لاہور سے واپس آ کر اب میں اسی کے پاس رہوں گا
15:43اچھا آسد بھائی اجازت ہے
15:47خدا حافظ
15:50خدا حافظ
15:52خدا حافظ
16:10حافظ
16:13حافظ
16:17حافظ میں
16:21میں کسی مریض کی طرح آپ کی محبت میں مبتلا ہوں
16:28حافظ
16:32مجھے آپ کی مسیحی کی ضرورت ہے
16:42کچھ مجھے خود مسیح کی ضرورت ہے
16:46جو مجھے چھو لے
16:49اور میں زندہ ہو جاؤں
16:51حافظ
16:53مجھے چھو
16:54مجھے چھو
16:55میں ہوں
16:57نای
17:03نای
17:05نای
17:07نای
17:08نای
17:10نای
17:11نای
17:12نای
17:14نای
17:15نای
17:16نای
17:17نای
17:18نای
17:19نای
17:20نای
17:22نای
17:23نای
17:24نای
17:25نای
17:26نای
17:27نای
17:28نای
17:29نای
17:30نای
17:31نای
17:32نای
17:33نای
17:34نای
17:35نای
17:36نای
17:37نای
17:38نای
17:39نای
17:40نای
17:41نای
17:42نای
17:43تم مر جاتے تو جانتے ہو کیا ہوتا
18:01تم نہیں جانتے تم مر جاتے تو کیا ہوتا
18:13محبت تو خدا بھی اپنے دائق گنے گار بندے کی بھی قبول کر لیتا ہے
18:21اور آپ ایک انسان کی ذرا سی محبت سے غبرا دیں
18:43تم نہیں جانتے تم مر جاتے تو کیا ہوتا
18:52تم نہیں جانتے
18:55کیسی محبت ہے تمہاری
18:57کیسی محبت ہے یہ
19:13محبت ہے
19:43محبت تو خدا بھی اپنے
20:11دائق گنے گار بندے کی بھی قبول کر لیتا ہے
20:15اور آپ ایک انسان کی ذرا سی محبت سے غبرا دیں
20:19تم مر جاتے تو جانتے ہو کیا ہوتا
20:24تم نہیں جانتے تم مر جاتے تو کیا ہوتا
20:27نہیں جاتے
20:38محبت ہے
20:44موسیقی
21:14موسیقی
21:44موسیقی
21:46موسیقی
21:48موسیقی
21:50موسیقی
21:52موسیقی
22:12موسیقی
22:14موسیقی
22:18موسیقی
22:20کیا ہوا؟
22:22تب بھی تو ٹھیک ہے آپ کی؟
22:26آسد؟
22:28آپ ٹھیک تو ہے نا؟
22:30کیا ہوا آسد؟
22:34آپ ٹھیک تو ہے نا؟
22:35ہاں
22:36ہاں؟
22:37ہاں؟
22:38ہاں؟
22:44یہ کیا ہوا؟
22:46کچھ یہ
22:48یہ مچ سو ہے وہ کیا؟
22:50کیا؟
22:51ہاں؟
22:52نہیں
22:53نہیں
22:54ہاں
22:55آسد آپ ایسا نہیں کر سکتے
22:56کچھ یہ ہو چکا ہے
22:59آپ ایسا نہیں کر سکتے
23:02آپ نے احمد کو مار دیا
23:05کچھ ایسا
23:06آپ نے احمد کو مار دیا
23:08کچھ ایسا ہو چکا ہے
23:09پلیز
23:10بات کو سمجھنے کی کوشش کرو کچھ
23:13دیکھو خوش میں آجا
23:15دیکھو اس طرف جانے کی ضرورت نہیں
23:17تمہارے پیروں کے نشان میں آجایں گے
23:19بات
23:21کیوں؟
23:22کیوں مار ڈالا آپ نے احمد کو؟
23:24کیوں؟
23:25کچھ یہ ہے
23:27میں تو اس کو مارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا
23:31میں تو مسلسل دو گھنٹے سے اپنا نشانہ لے
23:36اپنے آپ کو مارنے کی کوشش کرتا
23:39لیکن؟
23:40لیکن وہ تو نہیں ہوا
23:44احمد پیچھ میں آگیا
23:47کیوں؟
23:48کیوں آپ اپنے آپ کو مارنے کی کوشش کر رہتے
23:52کیا ہوا تھا؟
23:53ایسی کیا بات ہو گئی تھی؟
23:56کچھ یہ بتا نہیں
23:57لیکن مجھے اچانک یوں محسوس ہوا
24:02جیسے ہم بچڑ گئے ہیں
24:05اور یہ جدا احمد سے برداشت نہیں ہو رہی
24:08لیکن اس میں آپ نے احمد کو مار ڈالا
24:12وہ تو مار ڈالا
24:13اور پھر اچانک
24:18احمد مجھے ہیوں لگا جیسے ہمارے بیچ میں آ گیا ہو
24:24اتنی سی بات پر آپ نے اسے مار ڈالا
24:27اتنی سی بات پر
24:29آپ نے مجھ سے تو پوچھا ہوتا
24:31مجھ سے کچھ تو پوچھا ہوتا
24:33مجھے مار ڈالتے ہیں
24:36مجھے مار ڈالتے ہیں
24:37آپ نے احمد کو
24:38پلیز کچھا سمجھنے کی کوشش کرو
24:42پلیز کچھا سمجھنے کی کوشش کرو
24:45دیکھو مجھے ابھی پلیس سٹیشن میں جانا ہے
24:48کچھ نہیں چھوڑا آپ نے
24:50میرے سب کچھ ختم کر دیا
24:53سب کچھ ختم ہو گیا میرا
24:56کچھ بھی نہیں بچا
25:00کچھا
25:02کچھا تم اپنے آپ کو سنبھال ہوگی
25:03تو میں باہر جانے جیسا رہوں گا
25:06پلیز
25:08پوچھ میں آؤ
25:10میں نے پلیس سٹیشن جانا ہے ابھی
25:13کچھ سیاں
25:16پلیس
25:18ہاں
25:19پلیس
25:21اپنے کیا کی سزا بھگت نہیں ہوگی
25:24ہاں
25:28ہاں
25:29ہاں
25:32جو جدائی
25:36مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ
25:39اسے قبول کرنا ہوگا
25:43کچھا
25:45زندگی اب
25:47تمہیں گزارنی ہے
25:49میرے بغیر
25:51سن رہی ہونا
25:53ہاں
25:54میرے بغیر تمہیں زندگی گزارنی ہوگی
25:57اپنے لیے
25:59اور نیتوں کے لیے
26:01میں جانتا ہوں
26:03میں نے تمہارا کتنا بڑا نقصان کی ہے
26:07میں جانتا ہوں
26:11میں تم سے معافی بھی نہیں مانگ سکتا ہوں
26:14اس لیے میں کہہ رہا ہوں
26:17ہاں
26:19سمجھو بات
26:21میں کیا کہہ رہا ہوں
26:23سمجھ رہی ہو
26:24ہاں
26:28میں جا رہا ہوں پولیس ٹیشن
26:34لیکن
26:36تم سمجھتی ہو تم
26:37نیاں تنا رہ سکوگی
26:38ہم
26:54مجھتی ہیں
26:55موسیقی
27:24لیکن ایسا کرنے سے آپ اپنی زندگی تبا کر بیٹھیں گی
27:28ایسے حالات میں عورت کے حصے میں جو بدنامی آتی ہے وہ اتنی کرناک ہے کہ
27:33مجھے صاحب پتا ہے بھائی صاحب میں سوچ کر آئی
27:36بس آپ میرے سوالوں کا جواب دے دیں پلیز
27:40خوشیہ
27:42بدنامی خود ایک سزا ہے
27:45تم سمجھنے کی کوشش کرو
27:47دیکھو تم جیل سے بچ کر آ بھی گئی
27:50تب ہی پیچھے نہیں چھوڑے گی
27:52قبر تک ساتھ جائے گی
27:54ویسے عورت ہونا
27:56ایک جرم ایک سزا ہی تو ہے
27:58سوائٹی میں
28:00اس جرم اور سزا سے تو بہرحال میں لڑتی آئیں ہوں
28:02اور لڑتی رہوں گی
28:04لیکن بھائی صاحب
28:06آپ میرے سوالوں کا جواب دیجئے
28:08آپ کا اندازہ درست ہے
28:10اگر یہ ثابت ہو جائے کہ احمد کی وجہ سے آپ اور آپ کا گھر ٹسٹر ہو رہا تھا
28:18اور آپ انتہائی جذباتی کشمکر سے دوچار ہو کر بے اختیاری میں اقتام قتل کر بیٹھی تھی
28:24آپ کے شوہر آپ کے بچوہر میں ایسے بیان دے رہے ہیں
28:30تو آپ کی سزا میں آپ کی شوہر کی نزبت کمی ہو سکتی ہے
28:36آپ کو بھارال اپنا گھر
28:39اپنے عزت کا بچاؤ کا حق تو حاصل ہے
28:42اچھا میں چلتا ہوں
28:47بچوں کو سکون سے لیتی آنا
28:49دے آؤں
28:55کسیا
28:57تم پرگل تو نہیں ہوگی
28:59پاگل ہونے میں حرج بھی کیا ہے
29:04تو تم بھی پاگل ہو گئی اپنی میاں پر
29:08اس ملک کی آدھی عبادی کی طرح
29:11اور میاں بھی کیسا
29:12جس نے محض ایک شک کی بنیاد پر اس بیچارے کو قتل کر ڈالا
29:16محض شک نہیں تھا میرا
29:18کچھ تھا ضرور میرے اندر
29:23جس طرح توجہ حاصل کرنے کے لیے بچے کڑ پڑ کر ڈالتے ہیں نا
29:27کچھ ایسی ہی گڑ بڑ تھی میرے اندر
29:30اسد کی توجہ حاصل کرنے کے لیے
29:34اور اسی کا شور سن لیا تھا اسد نے
29:37اس کا مطلب ہے کہ تم احمد سے
29:41نہیں ہمیرا
29:43اگر محبت کے معنی کئی رنگ اور کئی رشتے ہیں تو
29:46احمد تو ناصر چچا کا بیٹا تھا
29:49قدسیا بی بی کہہ کر بچپن سے مجھے ہاس آتا رہتا
29:55گھنٹوں میرے کمرے میں گزہ میری کتاب کو اولٹ پولٹ کرتے رہتا تھا
30:00دھڑ دھڑ کر میرے کام کرتا
30:03تو چچی کہتی ہیں سنا قدسیا تم نے
30:07احمد کیا کہہ رہا ہے
30:10احمد کہہ رہا ہے میں قدسیا بی بی سے شادی کروں گا
30:14یہ سن کر میں کتنا ہزتی تھی
30:18مجھے پتہ ہی نہیں چلا
30:22کب اس کے اندر ننہ سا پودا تناور درخت بن گیا
30:26میں تو
30:29میں تو اپنی دنیا میں بگن تھی
30:34نہیں ہوں میرا
30:36شک کا بیچ تو میں نے ہی بودیا تھا شاید کہیں
30:41اسد تو مجھے زندگی کے سٹور میں محفوظ کر کے بھولی چکے تھے
30:48برسو با جب احمد آیا
30:51تو قدسیا بھی بھی کہتے کہتے اس کے لہچہ ہی بتلا ہوا تھا
30:56چھوٹے چھوٹے کامپلیمنٹس میری بیمانی ضرورتوں کو یاد رکھنا
31:05میرے خاص خاص دن کا خیال رکھتا تو
31:11میرے اندر کی عورت چونک چونک پڑتی تھی
31:15بس یہی کچھ تھا شاید
31:19یہی کچھ تو تھا
31:22جس کا شور اسد نے سن لیا
31:26مگر میں تو جواب میں میں تو جواب میں اسد ہی کے اندر چھپنا چاہ رہی تھی
31:32انہوں نے دروازے ہی نہیں کھولا
31:35قدسیا تمہارا جرم اتنا بڑا نہیں ہے
31:38کہ تم نہ کرتا گناہ اپنا سر لے لو
31:41اور ویسے بھی تمام طرف طوفان تم ہی تو فیز کر رہی تھی
31:46بات نہ کرتا گناہ کی نہیں ہے ہمیرا
31:50بات اسد کو بچانے کی بھی نہیں ہے
31:54تو پھر کیا بات ہے
31:57بات
32:00بات محبت کی ہے
32:03محبت میں جب تک
32:05روٹی کے نوالے سے لے کر
32:07گناہ اور سواب تک
32:09سزا اور جزا تک کو بانٹ کر نہ کھائے جائے
32:13محبت کے مٹھی نرم نہیں بڑھتی
32:16اس کی کوئی شکل بھی نہیں بنتی
32:19گھر تک نہیں بنتا اس سے
32:22بس وہ بھر بھری سی رہتی ہے
32:25ہاتھوں سے کتنا ہی سمبھالو
32:28جھڑتی رہتی ہے
32:30گھڑتی رہتی ہے
32:33گھڑتی رہتی ہے
32:36عدالت دونوں ملزمان
32:45قدسیہ عصداللہ اور عصداللہ اکبر کے بیانات کے علاوہ
32:49پلس کی رپورٹ اور دونوں ملزمان کے وقلہ کے دلائل کی روشتی میں
32:53اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزمہ قدسیہ کی ذات اور گھریلو زندگی کو چونکہ مقتول احمد ناصر متاثر کر رہا تھا
33:01اس لیے شدید جذباتی کشمکش کے باعث اور اپنی حفاظت کے لیے اچانک اور غیر ارادی طور پر وہ اختام قتل کی مرتقب ہوئیں
33:10اس لیے عدالت ملزم عصداللہ اکبر کو باعزت بری کرتی ہے
33:15جس نے اپنی بیوی کو بچانے کی خاطر قتل کا الزام اپنے سر لینے کی کوشش کی
33:21اور ملزمہ قدسیہ عصداللہ کو دس سال قدبہ مشخت کی سزا سناتی ہے
33:27ایسا نہیں ہے جو رانہ ایسا قتل ہی نہیں ہے
33:32یقین کیجئے میرا یہ قتل میں نہیں کیا ہے
33:35خود سے غلط کہہ رہی ہے جو رانہ قاتل میں ہوں
33:39مجھے سمجھنے کی کوشش کیجئے جو رانہ ایسا نہیں ہے نہیں ہے
33:44آپ اس وقت کیسا محسوس کر رہے ہیں
33:46کیا آپ اپنی بیوی کو بدنامی سے بچانا چاہتے تھے
33:49کیا آپ عدالت کی فیصلے سے مطمئن ہیں
33:50کیا یہ سچ ہے کہ آپ کی بیوی کے مقتول سے کافی پرانے کالتا ہے
33:53کیس طرح کی باتیں کرتے ہیں آپ چھوٹ دیجئے ہمیں
33:56زندہ رہنے دیجئے ہمیں جینے دیا کریں آپ
33:59کچھ اتنا یاد ہے آج کون سا دن ہے
34:11آج ہم آج شادی کی پندر میں سال کر رہے ہیں
34:20مجھے ہمیشہ کہتی تھی نا کہ مجھے یہ دن یاد نہیں رہتا
34:32لیکن دیکھو آج مجھے یہ دن یاد اور تم بھول گئے ہیں
34:38نہیں تو کیسی ہے
34:45اچھی ہے بہت اچھی ہے
34:49تمہارا بہت پوچھتی ہے
34:51لیکن اسے پتا چل گیا ہے کہ تم کہاں ہو؟ کیوں؟
34:57کیسے؟
34:59کیسے
35:00سکول کے بچوں نے بتایا اسے
35:04اور اس کے بچوں نے بتایا
35:06پھر
35:08کچھ یا میں نے تمہیں کہا تھا کہ
35:14میرا گناہ اپنے سر منتلو
35:18مجھے میرے حصے کی سزا کٹ لینے دوں
35:21کیوں
35:26آپ کے اسے کی سزا پر
35:29میرا کوئی حق نہیں ہے
35:32یہ بات نہیں ہے
35:36میرے اندر میں بھی
35:39ضمیر کا ایک قید خانہ ہے
35:42اور میں اس میں
35:43عذیتناک سزا کٹ رہا ہوں
35:51ایک سال تو گزر ہی گیا ست
35:53باقی نو سال بھی گزر جائے گی
35:56اچھا وہ
36:02میرے آفیس والے
36:06میرے تین سال کے لیے امریکہ بھیجنا چاہے ہیں
36:09تو
36:11میں نے انہیں اپنی مجبوری بتا دی
36:15دی
36:17نہیں اسد
36:18خیلے آپ کو جانا چاہیے
36:21نیتو کی خاطر اس کے مستقبل کے لیے
36:24یہاں رہے تو اس کی شخصیت دبا ہو جائے گی
36:27پلیس
36:29اور تم
36:30تمہیں چھوڑ کرنے کیسے جا سکتا ہوں
36:32جا سکتا ہوں
36:34یہ نو سال تو گزری جائیں گے ست
36:38لیکن
36:40اگر نیتو بکھر گئی تو
36:44پلیس
36:46مجبوری
36:48نہیں
36:49میں
36:52میں
36:55بھی کچھ نہیں کر سکتا
36:57کلی بنا پاتھا ہم کت موجیا
37:06سوچی گا ضرور ست
37:07جا سکتا ہوں
37:15بی بی تومی ایک پتہ سکتا ہوں
37:17جا سکتا ہوں
37:30بی بی تمہیںی ایک چیزی آخری
37:34جا
37:35بی بی تمہیں تمہارے اچھے کردار اور چال چلن کے وجہ سے چھ مہینے پہلے ریا کیا جا رہا ہے ابھی اسی وقت مبارک ہو
37:45شکریہ جی
37:47تم کہاں جاؤگی بی بی
37:49میں اپنے گھر
37:55لیکن تمہارے ریکارڈ سے تو پتا چلتا ہے کہ گزشت تھا آٹھ سالوں سے تم سے کوئی ملنے کیلئے نہیں آیا
38:02پھر کس کے پاس جاؤگی کوئی رشتہ دار
38:07میں اپنے گھر ہی جاؤں گی بس
38:11رشتہ دار تو بیسے بھی ان حالات میں چھوڑی جاتے
38:16اچھا یہ اندر سبت کروں
38:20سبت کروں
38:43موسیقی
39:13اسد کی دور کی رشتہ داروں سے کچھ کام تھا
39:16اسی کے سلسلے میں آئی تھی
39:19اسد تو گھر پر نہیں
39:20لیکن آپ اتنی دور سے آئیے
39:23تو آئیے اندر آپ
39:24پلیس آئیے نا
39:26نہیں میرے خیال ہے مجھے چلنا چاہیے
39:28نہیں نہیں آپ پلیس آپ آجائیں
39:29آئیے
39:41اندر آئیے
39:42پلیس پیچھو
39:47آئیے
40:12موسیقی
40:32یہ نیتو ہے
40:34یہ نیتو ہے
40:36کہا ہے
40:38کیا ہے
40:40اس کے ساتھ کی شادی کرتی ہے
40:42اچھا
40:44خوش تو ہے نا ماں
40:46ٹھیک ہے
40:48جیسے ہوتی ہیں ان حالات پر پڑھنے والی پچین
40:50ماں کو تو
40:54بہت یاد کرتے ہوگی
40:56ماں کو
40:58ماں نے اسے دیا ہی کیا ہے
41:00بدنامے کے سوا
41:02ایسے وہ ماں کے نام سے دور ہی باغتی ہے
41:04موسیقی
41:06ایسے آپ نے اپنا تارف تو کروائے نہیں
41:10اصل میں میری شادی کو صرف چار سال ہوئے ہیں
41:14اور میں اسد کی رشداروں کو زیادہ جانتی نہیں ہوں
41:18نہیں وہ خود بتاتے ہیں
41:20ہاں
41:22میں وہ
41:24میرا اسد سے کوئی رشتہ نہیں ہے
41:28بس ایک
41:30ایک
41:32تعلق سا ہے
41:34وہ
41:36کچیہ ہے
41:38جانتی ہو تم کچیہ کو
41:40اسب کی پہلی بیوی تھی نا
41:42تھی
41:44جیل میں جانا اور
41:46یمبر جانا بات تو ایک ہی ہے
41:48ہاں
41:50بات تو ایک ہی ہے
41:52ہاں
41:54بات تو ایک ہی ہے
41:56کچیہ
41:58کچیہ
42:00کچیہ میری دوست تھی
42:02جب وہ
42:04جیل سے باہر تھی نا تب
42:06بس میں تو نیتو کا پتہ کر نہیں آئی تھی
42:10چلتی ہوں
42:12میسے آپ کی مرضی ہے
42:14ایسا تو چند میرے پہ ہی آنے والے ہوں گے
42:16آپ بیٹھ جاتی تو اچھا تھا
42:18نہیں بس
42:20چلنا ہی چاہیے
42:22بہت لمبا سفر ہے
42:24بہت لمبا سفر ہے
42:26ہاں
42:28آپ کے گھر بہت خوبصورت ہے
42:30جی
42:32اسد کو بہت شوق ہے
42:34گھر کو سجانے سوانے کا
42:36ہر چیز خود اپنے ہاتھ سے ہی خرید کیلاتے ہیں
42:38ہاں
42:40ہوتے ہیں کچھ مردے سے
42:42بہت شوق ہوتے ہیں
42:44گھر کو سجانے سوانے کا
42:46چلو
42:48چلو
42:50ہاں
42:52اسد صاحب آئے تو
42:54ان سے کہہ دینا
42:56ان سے کہہ دینا کہ
43:00میں نے انہیں معاف کیا
43:02چی
43:04ہاں
43:08سکی رہنو
43:10بہت
43:40موسیقی
44:10موسیقی
44:40موسیقی
45:10موسیقی
45:40موسیقی
46:10موسیقی
Be the first to comment
Add your comment

Recommended