Skip to playerSkip to main content

Category

People
Transcript
00:00جيسے ہی خرگوش شیر کے شریر پر چڑتا ہے
00:02شیر ترنت جاگ جاتا ہے اور زور سے دہارتا ہے
00:04حرے نادان خرگوش
00:06تمہاری یہ جرت کی میرے شریر پر چڑتے ہو
00:08میری نیند خراب کر دی
00:09تمہیں پتا نہیں میں جنگل کا راجہ ہوں
00:11آج تمہاری خیر نہیں
00:12لیکن خرگوش ذرا بھی نہیں غبراتا اور عدب سے کہتا ہے
00:15عالی جان اگر آپ مجھے چھوڑ دیں
00:16تو ایک دن میں آپ کی مدد ضرور کروں گا
00:18شیر یہ سن کر زور سے ہستا ہے اور کہتا ہے
00:20تو میری مدد کرے گا
00:21ایک ننہا سا خرگوش جنگل کے راجہ کی مدد کرے گا
00:24لیکن شیر کا دل بڑا تھا
00:25اس نے خرگوش کو ماف کر دیا اور کہا
00:27جا آج کے بعد میرے سامنے مت آنا
00:29کچھ ہی دن بیتے تھے کہ شیر تالاب کی اور پانی پینے جا رہا ہوتا ہے
00:33تب ہی اچانک ایک جال میں پھنس جاتا ہے
00:35شیر بہت زور لگاتا ہے دہارتا ہے
00:37لیکن جال سے باہر نہیں نکل پاتا
00:39اسی سمیں جیسے ہی بندر شیر کو مشکل میں دیکھتا ہے
00:42تو مدد کرنے کی بجائے
00:43ترنت خرگوش کے پاس جا کر ساری بات بتا دیتا ہے
00:46خرگوش دوڑ کر شیر کے پاس پہنچا ہے
00:48اور اپنے تیز دانتوں سے جال کو کٹ کر
00:50شیر کو آجاد کر دیتا ہے
00:52شیر جیسے ہی آجاد ہوتا ہے وہ خرگوش سے کہتا ہے
00:54یار آج مجھے سمجھ آیا
00:56کہ کبھی کسی کو چھوٹا یا کمزور نہیں سمجھنا چاہیے
00:58وقت آنے پر وہی چھوٹا بھی بڑا کام کر سکتا ہے
Be the first to comment
Add your comment

Recommended