Skip to playerSkip to main content
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
🔴Win for Imran Khan: Scandal Rocks Government – Wrong Policies Backfire || Imran Riaz Khan VLOG

#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi

Like us on Facebook: / imranriazkhan2

Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h

Follow us on Twitter: / imranriazkhan

Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis

Category

🗞
News
Transcript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30بیس سے زائد لوگ جانبہک ہو گئے
00:31اور ابھی بھی خیبر پکٹونکا کی حکومت نے لیٹس ایک سٹیٹمنٹ دیا ہے
00:36کہ وہ تمام لوگوں کا نقصان پورا کریں گے
00:38چاہے وہ لائف سٹاک کا نقصان ہوا
00:41چاہے جو جانی نقصان تو پورا نہیں ہو سکتا
00:43لیکن جو مالی نقصان ہے
00:45جو زمینوں کا نقصان ہے
00:47جو فصلوں کا نقصان ہے
00:48اور جو لوگوں کے گھروں کا نقصان ہے
00:51یہ سارے نقصان پورے کیے جائیں گے
00:52اور اب تک کی اطلاع کے مطابق
00:55جو جانبہک ہونے والے افراد ہیں
00:57ان کی تعداد چار سو کے لگ بگ
00:59مختلف اندازوں اور تخمیلوں میں بتائی جا رہی ہے
01:02کچھ لوگ کہہ رہے ہیں تین سو کے قریب ہے
01:04لیکن ڈیفرنٹ جگہ سے ڈیفرنٹ ریپورٹس آ رہی ہیں
01:07اس کی تصدیق ہو جائے گی
01:08ایک اور ناظرین انتہائی افسوسناک
01:11جو مناظر ہم نے دیکھے وہ یہ دیکھا
01:12کہ جب پہاڑوں کے اوپر یہ
01:14کلاوڈ برسٹ ہوا ہے
01:16یا بہت تیزی سے فلڈ کا پانی آیا
01:17تو ساتھ وہ لکڑی بے کر آئی
01:20جو پہاڑوں پر چھپا کر رکھی ہوئی تھی
01:22ٹمبر مافیا نے
01:23بہت سارے علاقوں میں
01:25ٹمبر مافیا اپنا کام کرتا رہتا ہے
01:26جنگل میں لکڑی کاٹتا رہتا ہے
01:28اور یہ مافیا کی طرح کام کرتے ہیں
01:30یہ میکموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں
01:32اور جس طرح سے وہ لکڑی آئی ہے
01:35کٹ کر
01:36یعنی کٹ کے رکھی ہوئی تھی
01:37وہ لکڑی ساتھ بے کر آئی پانی کے
01:39تو ایسا لگتا تھا
01:41پورا کو پورا جنگل کاٹ کر رکھا ہوا تھا
01:43جو نیچے آگیا
01:43کئی جگہ پہ ایسے مناظر دیکھے گئے ہیں
01:46یہ افسوسناک مناظر ہے
01:48اگر آپ میں سے کسی نے ایک انڈین فلم آئی تھی
01:50لیٹس
01:51توڑا رہ سے پہلے اس کے مناظر دیکھے ہوں
01:52تو وہ
01:53ڈیم کے اندر بہت ساری لکڑی چھوڑ دیتے ہیں
01:55تو اس طرح کا منظر بھی
01:57ہم نے ایک جگہ پہ وہاں
01:58دریہا میں دیکھا
01:59جہاں پانی کٹا تھا
02:01اور کئی جگہ پہ لکڑی بے کر آئی ہے
02:03اور بہت بڑے پیمانے پر بے کر آئی ہے
02:05یہ لکڑی کس کی تھی
02:06یعنی اگر درخت ہونا تو
02:08وہ لکڑی کٹ کے نہیں ہوتی
02:09اگر درخت ہے تو پورے کے پورے درخت آتے ہیں
02:11ان کے ساتھ پتے بھی ہوتے ہیں
02:13ان کے ساتھ جو ہے شاخیں بھی ہوتی ہیں
02:15لیکن یہ جو لکڑی ہے
02:16یہ ایسے جیسے کٹ کٹ کے رکھی گئی ہے
02:18آرے کے ساتھ کٹ کے رکھی گئی ہے
02:21تو وہ ساری کی ساری جو لکڑی ہے
02:23وہ بے کر آگئی
02:24اور یہ ٹمبر مافیا نے کٹی ہوئی ہے
02:26میں صرف پاکستانیوں کو ایک بات کہنا چاہتا ہوں
02:29کہ ٹمبر مافیا جب آپ کے علاقے میں جنگل کٹتا ہے نا
02:31تو نارملی آپ لوگ پتہ کیا کرتے ہیں
02:33میں نے کئی علاقوں میں جا کر لوگوں کو کہا
02:36کہ بھئی یہاں لکڑی کٹتی ہے
02:37آپ کیوں نہیں روکتے
02:38تو عام شہری پاکستان کے پتہ کیا کہتے ہیں
02:42وہ یہ کہتے ہیں یہ گورنمنٹ کا کام ہے
02:45ہمارا کام نہیں ہے
02:46سرکاری جنگل کاٹ رہے ہیں
02:47ہمارا درکھ تھوڑی کاٹ رہے ہیں
02:49تو سرکاری جنگل کاٹ رہے ہیں
02:51تو سرکار جانے اور ٹمبر مافیا جانے
02:53ہم کیوں کسی کے ساتھ پنگا لیں
02:54یا ہم کیوں کسی کے ساتھ سر کپائیں
02:57یہ عام شہری نارملی یہ کہتے ہیں
03:00تو اب آپ دیکھیں اس کا انجام
03:02یہ جنگل جو انہوں نے کاٹے ہیں
03:04یہ سرکاری ورکاری نہیں ہے آپ مالک ہیں اس کے
03:07ہر پاکستانی مالک ہے پاکستان کے جنگلوں کا
03:10جتنی بھی سرکار کے بعد زمین ہے یا جنگل ہیں وہ عوام کے ہیں
03:14عوام ان کی مالک ہے
03:15وہ آپ کا جنگل ہے جسے ٹمبر مافیا کاتتا ہے
03:19اور آپ اس کٹائی کو روکنے کے لیے سرکار کو ٹیکس دیتے ہیں
03:23جس کی ایوز وہ آپ کو کچھ ملازم دیتے ہیں سرکاری ملازم
03:26جنہوں نے اس کٹائی کو روکنا ہوتا ہے
03:29اگر وہ اپنا کام نہیں کر رہے
03:31تو کیا آپ بھی نہیں کریں گے
03:33فرض کریں آپ نے پیسہ ویسا دیکھ کر اپنے دروازے پہ چوکی دار بٹھا لیا ہے
03:36اور آپ کے گھر کے اندر جو ہیں وہ چور گھسائیں ہیں چوکی دار کے ساتھ مل کر
03:40تو آپ یہ کہیں گے کہ چوکی دار جانے اور چور جانے
03:43یا آپ نکل کر آپ کی تعداد بھی زیادہ ہے
03:47آپ کی طاقت بھی زیادہ
03:48آپ چور کو روکیں گے
03:49آپ ضرور روکیں گے
03:51یہی آپ کے ساتھ ہو رہا ہے کہ جو سرکاری جنگل ہے
03:53اس کی کٹائی جب ہوتی ہے
03:55تو آپ خاموش ہو جاتے
03:56اس کو روکیں
03:58زبردستی روکیں
03:59طاقت سے روکیں
04:00ان کو منع کریں
04:02اور ان کو وہاں سے ہٹویں
04:04یہ جو ٹمبر مافیا ہے
04:06دیکھیں جنگل آپ لگا تو رہے نہیں
04:07جو ہیں وہ آپ کٹواتے جا رہے ہیں
04:09اور ٹمبر مافیا پیسہ کمارا ہے
04:11حکومتوں کی اس طرف توجہ نہیں ہے
04:14عمران خان واحد آدمی ہے
04:15جس نے اس کے اوپر توجہ دی تھی
04:17اس کے بعد سے آج تک کسی نے
04:18کلائمٹ چینج کے اوپر کام ہی نہیں کیا
04:20لہذا یہ جو لکڑی کٹ کے آ رہی ہے
04:22یہ آپ کی اپنی ملکیت ہے
04:24آپ کی اپنی زمین کے اوپر لگی ہوئی ہے
04:26یہ سرکاری جنگل ہے
04:27آپ اس کے مالک ہیں
04:28تو ٹمبر مافیا کو
04:30لکڑیوں کی کٹائی سے روکیں
04:32انہیں منع کریں
04:33یہ اوپر لکڑی جمع کرتے رہتے ہیں
04:35اور اس کے بعد مختلف طریقوں سے
04:37اندھیرے میں
04:38مختلف دنوں کے حساب سے
04:40مختلف طریقوں سے لکڑی نکال
04:42نکال کے بارکیٹ میں پہنچاتے ہیں
04:44تو یہ افسوسناک سلسلہ بند ہونا چاہیے
04:47ناظرین سویل وڑایج صاحب نے
04:48ایک کولم بھی لکھ دیا
04:49اور عمران خان صاحب سے کہا
04:52جی آپ مافی مانگ لیں
04:53جو انہوں نے کہا درہا یہ دیکھیں آپ
04:55یعنی مجھے حیرت ہوتی ہے
04:57کہ یہ جنرلسٹ ہیں
04:58یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں
04:59یعنی عمران خان کو کہہ رہے ہیں
05:00کہ آپ مافی مانگیں
05:01اور آپ کو مافی مانگنی چاہیے
05:03ان کو یہ مشورے بھی دے رہے ہیں
05:05کہ قوم جو ہے نا وہ ایک اور
05:07ظلفکار علی بھٹو کی متحمل نہیں ہو سکتی
05:10سویل وڑایج کہتے ہیں کہ
05:11کہہ دی جی جان ہے تو جہان ہے
05:13پاکستان بھٹو جاتا سانیا
05:15دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا
05:16اب یہ ایک دھمکی ہے
05:18یہ ایک دھمکی ہے
05:19جو آسیم و نیڑ سے ملاقات کے بعد
05:21سویل وڑایج کے ذریعے سے لگائی گئی ہے
05:23اس سے پہلے بھی کوئی ٹاؤٹس
05:25استعمال کیے جاتے رہے
05:26ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے جانب سے
05:28جو دھمکیاں لگانے کا کام کرتے تھے
05:30اب انہوں نے ایک بہتر ٹاؤ تھاہر کیا ہے
05:32جس کے ذریعے وہ دھمکی لگوا رہے ہیں
05:34عمران خان خود کہہ چکے ہیں
05:36اور بار بار کہہ چکے ہیں
05:37وہ جیل میں مرنے کو ترجیح دیں گے
05:39کسی بھی ڈیل پر
05:41میں آسیم منیر کے سامنے نہیں جھکوں گا
05:44میں اس چکس کے سامنے سر نہیں جھکا ہوں گا
05:46یہ عمران خان سب بار بار کہہ چکے ہیں
05:48اب سوہیل بڑا اس سب
05:50انہیں دھمکی لگا رہے ہیں
05:50کہ بھٹو والا حال کر دیں گے
05:52یعنی آپ کو قتل کر دیں گے
05:53اگر آپ نے جان بچانی ہے
05:55تو جان ہے تو جہان ہے
05:56اور انہوں نے کہا
05:59کہ ہم سانیاں دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے
06:01نہ ہی آپ کے کروڑوں حامیوں کو
06:03مایوسی بے بسی میں دھکیلنا چاہتے ہیں
06:06معافی تلافید کام ممکن ہے
06:08تو یہ فوراں کر کے جیل سے باہر نکلنا ہی
06:10عملیت پسندی ہے
06:11ڈیر کہہ دی جی
06:13آپ بار بار کہا کرتے تھے
06:15یو ٹرن اچھے ہوتے ہیں
06:16ایک یو ٹرن ملکی استحقام کے لیے بھی لے لیں
06:19اگلے الیکشن تک چپ کر روزہ رکھ لیں
06:22لیکن عمران خان نے یو ٹرن لیا
06:24آئی ایم ایف کے پاس جانے کے معاملے میں
06:27ایک دو اور معاملات میں بھی لیے
06:28لیکن وہ جو یو ٹرن عمران خان صاحب نے لیے
06:31وہ انہوں نے قوم کے لیے لیے تھے
06:33اس وقت اور اپنے مواقف سے پیچھے اٹھے تھے
06:35لیکن عمران خان ایک بات اور بھی کہتا تھا
06:37جو سویل وڑا اس سب بھول گئے ہیں
06:39عمران خان نے کہا تھا کہ
06:40میں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے
06:42یو ٹرن لے سکتا ہوں
06:43لیکن اپنے مقصد پر یو ٹرن نہیں لے سکتا
06:46اب عمران خان یہ کہتے ہیں
06:48کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے جو حقیقی آزادی ہے
06:50وہ پاکستانی قوم کو دلوانی ہے
06:52یہ ان کا مقصد ہے
06:53اس تک پہنچنے کے لیے تو وہ یو ٹرن لے سکتے ہیں
06:56لیکن اس مقصد سے کیا وہ یو ٹرن لے سکتے ہیں
06:59ہوگا کیا
07:00اگر عمران خان صاحب معافی مانگ لیتے ہیں
07:02دیکھیں یہ نواز شریف کی خواہش ہے
07:03نواز شریف کو اس بات کا پتا ہے
07:05اس کی بیٹی کو بھی پتا ہے
07:06کہ اب وہ عمران خان جتنے مقبول کبھی نہیں ہو سکتے
07:09نہ کبھی ماضی میں رہیں
07:10نہ آئندہ کبھی ہو سکتے ہیں
07:12تو انہیں ایک بات کا آئیڈیا ہے
07:14کہ ہم تو وہاں نہیں پہنچ سکتے
07:15اس کو نیچے کھینچو
07:16عمران خان سے کوئی نہ کوئی معافی موفی منگواؤ
07:19کوئی ایک ادھا کاغت کا ٹکڑا ہمارے پاس ہو
07:22اس کو لے کر ہم دنیا کو بتائیں
07:24جناب ہم بھی ویسے اتنے برے ہیں
07:25اور عمران خان بھی ویسے یہ
07:26اگر ہم بزدل ہیں
07:28تو عمران خان بھی دلیر نہیں ہے
07:29اب یہ وہ ساری کہانیاں عوام کو سنانے کے لیے
07:32اپنے آپ کو ریلیونٹ بنانے کے لیے
07:34عمران خان کو نیچے کھینچنا چاہتے ہیں
07:36خود تو اوپر نہیں جا سکتے
07:37لیکن انہوں نے حل یا نکالا کہ عمران خان کو نیچے لے ہیں
07:40اگر عمران خان نے معافی مانگ بھی نہیں
07:42تو یہ سچے دل سے معافی کیا ہوتی ہے
07:44یعنی اس کا پیمانہ کیا ہے
07:46آرمی چیف فیلڈ مارشل آسم منیر کو کیسے پتا چلے گا
07:51کہ یہ جو معافی مانگی ہے
07:52یہ سچے دل سے ہے یا نہیں ہے
07:54اس کا کرائٹیڈیا کیا ہوگا
07:56کہ اب باوضوع ہو کر
07:57کوئی خاص طریقہ کار کر کے
07:58کوئی سچے دل سے خشو خضو کے ساتھ
08:01وہ کیسے پتا چلے گا کہ یہ جو معافی مانگی گئی ہے
08:03یہ سچے دل سے معافی مانگی گئی ہے
08:06یا جھوٹے دل سے معافی مانگی گئی ہے
08:08ایک تو یہ مجھے بہت عجیب لگتا ہے
08:10جو یہ بات کی جاتی ہے
08:11دوسرا اگر عمران خان صاحب اس معاملے میں
08:13اسٹیبلشمنٹ سے ہار جاتے ہیں فرض کریں
08:15تو کیا ہوگا
08:17ہوگا یہ کہ اگلے کچھ عرصے تک کے لیے
08:19یا ہو سکتا ہے ایک لمبے عرصے تک کے لیے
08:21عوام کے اندر سے یہ خواہش
08:23یا امید دم توڑ جائے
08:25کہ جناب
08:27اسٹیبلشمنٹ کو شکست دی جا سکتی ہے
08:29یا اسٹیبلشمنٹ سے جان چھڑا ہی جا سکتی ہے
08:32یا اسٹیبلشمنٹ کے ظلم سے
08:34بچا جا سکتا ہے
08:35ہو سکتا ہے لوگوں میں یہ امید دم توڑ جا
08:37اور اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو یہی چاہیے
08:38کہ پاکستان کی عوام یہ سوچنا بھی بند کر دے
08:41کہ کسی دن وہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو
08:44اپنے تھابے کر لیں گے
08:46اب اس میں سوہیل وڑائی صاحب نے
08:48جو کالم لکھا وہ تو آپ کے سامنے
08:50میں نے آپ کو بتا دیا کہ وہ مشورے دہ رہے ہیں
08:51ساتھ دھمکیاں بھی پہنچا رہے ہیں
08:53لیکن یہ سوہیل وڑائی صاحب کا پرانا طریقہ کار ہے
08:55یہ اسٹیبلشمنٹ کے آج کی داسی نہیں ہے
08:58یہ اسٹیبلشمنٹ کی آج سے غلامی نہیں کر رہے
09:01یہ بہت پرانے اسٹیبلشمنٹ کے متی ہیں
09:03یہ بہت پرانے ہیں اسٹیبلشمنٹ کے چانے والے ہیں
09:06یعنی ہمیں تو یہ کہتے ہیں نا
09:08لوگ کہ جنرل باجوہ سے یہ فیض سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں
09:10میں لانت بھیجتا ہوں میں ساری زندگی کبھی فیض امید کو ملا بھی نہیں
09:13اور جنرل باجوہ سے جو ملاقات ہوئی
09:16اس کے اندر بھی اختلاف ہو گیا
09:17یعنی میں نے جنرل باجوہ کو اس کے موہ پر کہا تھا
09:20کہ جنرل صاحب ستر سال آپ نے چورن بیچا
09:22قوم کو کہ کشمیر کو ازاد کروا لیں گے
09:24اب آپ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ جا کر ہم قوم کو یہ بتائیں
09:27کہ جناب بھول جائیں کشمیر کو
09:28اور انڈیا کے ساتھ تعلقات نارملائز کریں
09:30یہ نہیں ہونا
09:31پھر میں نے انہیں کہا یہ جو آپ نے بنائی طریقے لبیک کے بارے میں
09:34میں نے کہا یہ لاہور سے لے کے پنڈی تک
09:37یہ جو آپ نے کھیل کھیل دیا ہے نا
09:39یہ آپ کو کسی دن پتہ چل جائے گا جو یہ آپ کے ساتھ کریں گے
09:42اور آپ ہمیں چاہتے ہیں کہ ہم جا کے ان سے لڑے ہیں
09:44تو آپ کیا کریں گے
09:46آپ کو یہ فیصلہ خود کرنا پڑے گا
09:49کہ آپ نے قوم کے ساتھ یہ کیا کیا
09:50یہ چیزیں میں نے ان کے ساتھ نے رکھی تھی
09:51تو میری تو جنرل باجوہ سے جو ملاقات ہوئی
09:55ایک دو ملاقات نے
09:56وہ بھی اسی طرح کی تھی کوئی اچھی ملاقات نہیں تھی
09:59بدمضہ والی تھی
10:00جنرل فیض سے میں ساری زندگی ملا ہی نہیں
10:02اب آپ اندازہ کریں کہ سوہیل وڑائش صاحب
10:06جو خود کو ایک نیوٹرل صحافی کہتے ہیں
10:08یہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے بارے میں کیا کہتے تھے
10:10ذرا یہ بھی آپ سن لیں
10:12جب جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دی گئی
10:15تو سوہیل وڑائش صاحب نے لکھا
10:16کہ بلاخر پاکستان کی پائیدار ترقی کا راستہ ہموار ہو چکا ہے
10:19کیونکہ تاریخ کے طالب علم اور ترقی کے خواہاں
10:24جنرل کمر جعوید باجوہ کو مزید تین سال کے لیے
10:27آرمی چیف بنا دیا گیا ہے
10:29اس فیصلے پر وزیر آدم عمران خان
10:32امریکہ یورپ اور دنیا بھر کے ممالک سے
10:36مبارک بات کے مستحق ہیں
10:38کیونکہ اب پاکستان امن اور ترقی کی راہ پر ہی چلے گا
10:42اندازہ کریں یہ
10:44یہی سوہیل وڑائش ہیں
10:45جو جنرل باجوہ کی شان میں بھی قصیدے پڑھا کرتے تھے
10:49اور ان کے بارے میں اور کیا کچھ کہا کرتے تھے
10:51یعنی انہوں نے
10:54ذرا یہ جملے آپ سنیں
10:55آپ کی جو ہے نا آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا
10:58انہوں نے کہا کہ
10:59تاریخ کا شعور رکھنے والے جنرل کمر جاوید باجوہ
11:03نہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتے ہیں
11:05اور نہ ہی بھارت کے ساتھ جنگ
11:07سو دنیا بھر کے امن پسندوں کے لیے
11:10جنرل باجوہ کی تقرری
11:11ایک خوش خبری ہے
11:13جب جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی افوائیں گرم تھی
11:17تب آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے
11:19عوضہ نہیں سبھالا تھا
11:20مگر جہاں چار سینئر ترین جنرلوں کے
11:23مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہے
11:25وہی جنرل فیض حمید جیسا آئیرن مین
11:29جنرل باجوہ کی معاونت جاری رکھے گا
11:32اور جنرل کمر جاوید باجوہ کی
11:34تین سالہ مدت ملادمت میں
11:36توسیع کے بعد
11:37اگر وہ اگلے آرمی چیف کے لیے
11:39سب سے طاقتور امیدواروں کی دور میں
11:42شامل ہو چکے ہیں
11:43یعنی وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ
11:44فیض حمید جو ہے وہ اگلے آرمی چیف آ رہے ہیں
11:46اس کے علاوہ اور بھی تعریفیں کی طرح یہ بھی سنیں آپ
11:49آگے وہ کہتے ہیں کہ جنرل فیض حمید
11:51چار سینئر ترین جنرلوں میں شامل ہوں گے
11:53اور اگر انہیں بھی
11:55اسی طرح چھ سال یعنی
11:56دوہزر اٹھائیس تک
11:58بطور اگلے آرمی چیف آف دی سٹاف
12:01اپنی پولیسی تسلسل سے جاری رکھنے کا
12:03موقع ملتا ہے تو پاکستان بھی
12:05ملائشیا ہانگ کانگ
12:07اور چین کے موڈل کی طرح فائدہ اٹھا کر
12:10اور ترقی کر کے
12:11بارہ سال گزار کر
12:13نئی منزلوں کی طرف گامدن ہو چکا ہوگا
12:16یعنی یہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان
12:18چائنا بن جائے گا
12:19ملائشیا بن جائے گا
12:21ہانگ کانگ بن جائے گا
12:23اگر جنرل باجوہ نے یہ تین سال نکال دیے
12:25اس کے بعد جنرل فیض حمید کو آرمی چیف
12:27بنایا گیا اور اس نے بھی
12:29چھ سال نکال دیے تو پاکستان
12:31ہانگ کانگ بن جائے گا کمال کر دے گا
12:33پاکستان ترقی کا پاکستان
12:35بہترین موڈل پاکستان ترقی کا
12:37اپنا لے گا
12:39یہ جو کل کہانی سنا رہے تھے
12:41جنرل آسیم مڈیڈ صاحب کی
12:43ان کے پاس دس سالہ منصوبہ ہے پانچ سالہ منصوبہ ہے
12:45اب یہ
12:47کہہ رہے تھے کہ جنرل ایوب نے پائیدار
12:49ترقی معاشی تسلسل اور سیاسی
12:51استحقام کا دس سالہ
12:53موڈل بنایا اور پھر اسے چلایا
12:55ڈیم بنائے
12:57اور پاکستان کو ملائشیا اور جنوبی
12:59کوریا کی سطح پر لے جانے ہی والے تھے
13:01کہ ادم استحقام ہو گیا
13:02سیاسی ادم استحقام ہو گیا
13:05یہ شخص بہت پرانا
13:08جرنیلوں کا مطی ہے
13:09بہت پرانا جرنیلوں کے ساتھ
13:12خوش آمد کرنے والا ہے
13:13میں سویل وڑائیس صاحب کے بارے میں یہ کہنا نہیں چاہتا تھا
13:16لیکن جو بھی ڈکٹیٹر آتا ہے
13:17پرویز مشرف سے لے کر اب تک
13:19سویل وڑائیس صاحب نے دبا کے ان کی تعریفیں کیے
13:22اور ان کی گیم اٹھائیے
13:24اور ان کے قصیدے پڑے ہیں
13:26اور پھر وقت آنے پہ یہ انقلابی بھی بن جاتے ہیں
13:30کولم میں دو علاہ انہیں شامل کر کے
13:31یہ انقلاب کے اندر اپنا نام بھی لکھوال لیتے ہیں
13:33اس آدمی نے سب سے زیادہ
13:35پوری دنیا کا ٹریول کیا ہے
13:37اپنے صحافی ہونے کا فائدہ اٹھا کر
13:39بہت ٹریول کیا ہے دنیا کا
13:41موجہ ہی موجہ
13:42کبھی ایک چھوٹی سی قربانی بھی انہوں نے نہیں دی
13:45کبھی بھی جمہوریت کی خاطر ہو جائے
13:47صحافت کی خاطر ہو جائے
13:49انسانیت کی خاطر ہو جائے
13:51تو انہوں نے اپنی موج مستی میں زندگی گزاری ہے
13:53اور انہیں یہ لگتا ہے کہ موج مستی ہی زندگی ہے
13:56یعنی عمران خان
13:58جو قربانی دے رہا ہے انہیں لگتا ہے کہ یہ تو بے وکوفی ہے
14:00ہر وہ آدمی
14:02جو سحیل وڑائیت جیسی زندگی گزارے گا
14:04ہر اس آدمی کو عمران خان
14:06جیسی زندگی گزارنے والا آدمی بے وکوف اور پاگلی لگے گا
14:09وہ یہ کہے گا کہ
14:10یعنی قربانی دینے کی کیا ضرورت ہے
14:11لائف انجوائے کرو جاؤ ورلڈ ٹور کرو
14:14فلان جگہ پہ جاؤ لوگ ٹکٹ دیں گے
14:16آپ یہاں جاؤ آپ وہاں جاؤ آپ یہ انجوائے کرو
14:18تو مجھیں کرو آپ دنیا بھر کی
14:20اور
14:21کیا ضرورت ہے قربانی دینے کی
14:24کیا ضرورت ہے مار کھانے کی
14:26کیا ضرورت ہے ٹکر لینے کی
14:27لیکن یہ لوگ تاریخ میں اپنا نام نہیں لکھ باتے
14:30آج سویل بڑائیت صاحب
14:32کوئی لوگ اس لیے جانتے ہیں کہ وہ عمران خان کا تذکرہ کر رہے ہیں
14:35سویل بڑائیت لکھ دے کچھ اور کالم
14:37کوئی پوچھے گا بھی نہیں
14:40کوئی بات بھی نہیں کرے گا
14:42تو ان کو اپنے آپ کو ریلیونٹ رکھنے کے لیے بھی
14:45انہی لوگوں کا نام استعمال کرنا پڑتا ہے
14:47جن لوگوں کو یہ اپنے سے بے وقوف سمجھتے ہیں
14:51عمران خان تاریخ لکھ رہا ہے
14:54اور سویل بڑائیت صاحب صرف عمران خان کا نام استعمال کر کے
14:57کالم لکھ رہے ہیں
15:02انہوں نے دوزار چوبیس کے انتخابات میں دھاندلی کیوں کروائی
15:05پوچھنا چاہے تھا کہ آپ نے جالی فارم فورٹی سیون جاری کیوں کروائے
15:09پوچھنا چاہے تھا کہ آپ نے پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نشان کیوں چھینا
15:14پوچھنا چاہے تھا کہ تحریک انصاف کے لوگوں کو شائروں کو صحافیوں کو باقی لوگوں کو جبری طور پر لا پتہ کیوں کیا
15:21پوچھنا چاہے تھا کہ ایم این ایس کو ہوا کیوں کیا گیا
15:24پوچھنا چاہے تھا کہ پارلیمنٹ کے اوپر اٹیک کیوں کیا گیا
15:27یعنی وہ جو ساری چیزیں پوچھی جانی چاہیے تھی
15:30آرمی چیف سے کے جناب ان کا جواب دیں جو آپ کے اوپر الزامات ہیں
15:34بجائے وہ پوچھنے کے ان کے بہاپ پہ آ کر دھمکیاں لگا رہے ہیں
15:38اور بتا رہے ہیں اب الٹا کام ہو گیا
15:40ہوا یہ ہے کہ سویل بڑھائی سے جو کولم لکھوایا گیا
15:43اس نے عمران خان صاحب کو ایک کلین چٹ دی ہے
15:45یعنی وہ کولم یہ بتا رہا ہے کہ عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا
15:48وہ کولم یہ بتا رہا ہے کہ عمران خان کے اوپر کوئی کیس صحیح نہیں ہے
15:54سارے کیسز عمران خان کے اوپر جالی ہے
15:56دو نمبر کیسز بنے ہوئے
15:58اور یہ صرف پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے
16:03یا ان کے غصے کو مدنظر رکھتے ہوئے
16:05عمران خان صاحب کو زبردستی جیل میں رکھا گیا ہے
16:07اور صرف ایک مافیہ ایک سردر
16:10عمران خان صاحب کو ان ساری تکالیف سے باہر نکال سکتا ہے
16:13تو سویل وڑائید صاحب کا شکریہ
16:15کہ نادانی میں انہوں نے کچھ بھی کیا
16:17کم سے کم وہ یہ گوائی تو لے کر آئے آرمی چیف سے
16:20کہ عمران خان کسی قانون کی وجہ سے جیل میں نہیں ہے
16:23عمران خان کسی انصاف کی وجہ سے جیل میں نہیں ہے
16:26عمران خان صرف اور صرف اپنے موقع پر ڈٹ جانے کی وجہ سے جیل میں ہے
16:30ناظرین عمر صاحب نے ایک بڑا انٹرسٹنگ سٹیٹمنٹ دیا ہے
16:33اس موقع پر وہ سٹیٹمنٹ سنانا بڑا ضروری ہے
16:36انہوں نے کہا کہ آج کے دن سینٹس سال پہلے
16:39جنرل زیاؤلگ وفات ہوئے
16:42ان سے دھائی مہینے پہلے انہوں نے
16:45یعنی ان کی فوت ہونے سے
16:47جنرل زیاؤلگ آپ کو پتا ہے کہ
16:48عام کی پیٹیوں میں بم
16:50اور پھر جنرل صاحب کا تیارہ
16:52تباہ ہو گیا
16:53جنرل صاحب شہید ہو گئے
16:54اب جنرل زیاؤلگ کے بارے میں وہ کہتے ہیں
16:56آج کے دن ان کی وفات ہوئی تھی
16:58لیکن اس دن سے ڈھائی مہینے پہلے
17:00انہوں نے پارلیمنٹ تحلیل کی
17:02جنیجوں کو برطرف کیا
17:04تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ جنرل صاحب
17:06مکمل کنٹرول رکھتے ہیں
17:07اور سالوں نظام ایسے ہی چلتا رہے گا
17:10لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا
17:13اور ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے
17:15یہ حسد عمر صاحب نے کہا
17:17تو وہ کہتے ہیں سابان سو برس کا اور پرل کی خبر نہیں
17:20تو پلان تو بڑے لمبے جنرل زیاؤلگ کے پاس بھی تھے
17:26جنرل مشرف کے پاس بھی تھے
17:28جنرل یایا کے پاس بھی تھے
17:30لیکن ان کے پلان کہاں پہ گئے
17:31ان کے منصوبے کدھر گئے
17:33دھڑے کے دھڑے رہ گئے
17:35جب وقت آتا ہے نا جب اللہ تعالیٰ کی لاتھی ہے
17:37وہ بڑی بے آواز ہے
17:38تو پھر آدمی کچھ بھی سوچتا رہے
17:40ہوتا وہی ہے جو میرا رب چاہتا ہے
17:41ناظرین نظرہ یہ ایک اور سکینڈل دیکھے
17:44کہ پاکستان نے جو چینی باہر سے
17:46امپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
17:48یہ دو لاکھ میٹرک ٹن شوگر ہے
17:49اس کو امپورٹ کرنے کے لیے جن
17:51کمپنیوں نے سب سے کم قیمت
17:54آفر کی تھی انہیں یہ ٹینڈر نہیں دیا گیا
17:57حکومت پاکستان کی جانب سے
17:58بلکہ ٹینڈر انہیں دیا گیا
18:00جنہوں نے مہنگی چینی منگانے کے لیے کہا تھا
18:03اور بہانہ کیا بنایا گیا
18:04مثال کے طور پر ایک کمپنی ہے
18:06جو لندن کی ہے
18:07اس نے پانچ سو انتالیس ڈالر فی میٹرک ٹن کا
18:11آفر دیا تھا
18:12کہ ہم اس طرح آپ کو چینی مگوا کر دے دیتے ہیں
18:14لیکن ان کی جو انہیں ٹیکنیکل وجہ بنا کے
18:17ان کو ڈاکومنٹیشن کی منعات پر فارغ کر دیا گیا
18:19پھر ایک جرمنی کی کمپنی تھی
18:21جس نے پانچ سو پچپن ڈالر فی میٹرک ٹن کا تھا
18:24اس کو بھی جناب فارغ کر دیا گیا
18:26اور پھر جو بڈ منظور کی گئی
18:29ان کمپنیوں کو یہ ٹھیکا دیا گیا
18:31جنہوں نے پانچ سو اسی
18:33اشاریہ سات پانچ ڈالر فی میٹرک ٹن
18:36اور دوسری نے پانچ سو چھاسی ڈالر
18:39فی میٹرک ٹن کے حساب سے
18:41یعنی ایک سویس کمپنی ہے
18:42اور ایک دبائی کی کمپنی ہے
18:44ان کو ٹھیکا دے دیا گیا
18:45یعنی جو پاکستان کو سستی چینی منگا کر دے رہا ہے
18:48اس کو ٹھیکا نہیں دیا جا رہا ہے
18:50اس کو رد کیا جا رہا ہے
18:52اور جو پاکستان کو مہنگی چینی منگا کر دے رہا ہے
18:54اس کو ٹھیکا دیا جا رہا ہے
18:56اس کو رد نہیں کیا جا رہا ہے
18:58ہر چیز میں یہ قوم کو چونہ لگاتے ہیں
19:00ہر چیز میں یہ قوم کو بیوقوف بناتے ہیں
19:03ہر چیز میں یہ قوم کو لوٹتے ہیں
19:05قوم کا خون نہ چوڑتے ہیں
19:07اور یہاں پہ بھی وہ یہی کر رہے ہیں
19:08تو اس سے ہوگا کیا
19:10چینی مزید مہنگی ہوگی اور آپ بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے
19:13ناظرین جاتے جاتے ایک خبر میں آپ کو بتا دوں ملکہ دو خبر ہیں ایک یہ ہے کہ پاکستان میں جو ایکنامک پالیسی اور بزنس دیولپنٹ تھنک ٹینک ہے انہوں نے پاکستان کے ٹاپ فورٹی جو ٹاپ چالیس بزنس گروپ ہیں ان کی تفصیلات جاری کی ہیں انہوں نے پاکستان کو نمبر ون بزنس گروپ ہے صرف میں آپ کو اتنا پتانا چاہوں گا وہ ہے فوجی فاؤنڈیشن کوئی مقابلہ نہیں دور دور تک فوجی فاؤنڈیشن پاکستان کا نمبر ون سب سے امیر ب
19:43پاکستان ایک ایک ارب ڈالر کے لیے ترسرہ ہے لیکن فوجی فاؤنڈیشن سب سے امیر سب سے تگڑا کوئی مقابلہ نہیں دور دور تک اور اس کی وجہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں
19:52دوسری قبر یہ بتاتا ہوں کہ پنجاب میں ناظرین اکیس ہزار سکول یہ وہ سکول ہیں جو سرکاری سکول تھے انہیں آؤٹسورس کر دیا گیا ہے
20:00یعنی اب یہ سرکار کی تحویل میں نہیں رہیں گے اکیس ہزار سکول پنجاب میں فارق کر دیے گئے
20:06اکیس ہزار یہ چھوٹا فگر نہیں ہے اور اس میں ترتالیس ہزار چھے سو چوبیس اسات ہزار کی آسامیاں ختم کر دی گئی
20:15یعنی لگ بگ پنتالیس ہزار جو پڑھانے والے ٹیچرز ہیں وہ بھی فارق کر دیے انہوں نے
20:22یہ پنجاب کے اندر ترقی ہو رہی ہے اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ جپان کے اندر چھپتی پھر رہی ہیں
20:28کہ کسی طرح کسی کو پتا نہ چلے کہ میں نے کس ہال کے اندر جا کے تقریر کرنی ہے
20:31تاکہ وہاں پہ عوام نہ پہنچ جائے یا اوورسیز پاکستانی نہ پہنچ جائے
20:35اگلی ویڈوں میں تفصیلات بتاتا ہوں اب تکلیت نہیں اپنا خیال رکھیں گے اپنے سچینلز کا بھی اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended